امریکی اور چینی صدور میں رابطہ، مستقبل کے مذاکرات پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2026 GMT
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے صدر شی جن پنگ نے 4 فروری کو ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات اور مستقبل کے مذاکرات پر بات کی۔ ابھی گفتگو کی تفصیلات منظرعام پر نہیں آئیں، تاہم یہ رابطہ امریکی صدر کے ممکنہ اپریل کے دورے سے پہلے عمل میں آیا۔
یہ بھی پڑھیں:ہالی ووڈ فلمیں بھی امریکا چین ٹیرف جنگ کی زد میں آگئیں
چینی ریاستی نشریاتی ادارے CCTV اور دیگر سرکاری ذرائع نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ اس کال میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے استحکام، عالمی مسائل اور مستقبل میں تعلقات کو آگے بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
Chinese President Xi Jinping on Wednesday talked with U.
— Chinese Embassy in US (@ChineseEmbinUS) February 4, 2026
چینی سرکاری میڈیا نے گفتگو کے عین مواد یا دورانیے کی کوئی تفصیل جاری نہیں کی، اور نہ ہی وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس بارے میں تبصرہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق یہ کال صدر ٹرمپ کے ممکنہ اپریل 2026 میں چین کے دورے سے قبل ہوئی، جس کا مقصد دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنا اور تجارتی و سفارتی مسائل پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
یہ ٹیلیفونک رابطہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چین نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ ویڈیو لنک پر بات چیت کی، جس کے بعد شی جن پنگ نے ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی۔
چینی میڈیا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں استحکام لانا اہم ہے، خاص طور پر تجارتی کشیدگی اور عالمی سلامتی کے معاملات کے پس منظر میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا چین شی پنگ صدر ٹرمپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔
شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ