حج پر جانے والوں کو بائیو میٹرک کیلئے وزارت مذہبی امور نے ڈیڈ لائن دے دی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے عازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ویزا پراسیسنگ کیلئے بائیو میٹرک کا عمل ہر صورت 8 فروری تک مکمل کریں۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق ترجمان وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ عازمین حج بائیو میٹرک کیلئے اپنے متعلقہ بینکوں سے بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں، جو عازمین جدید سعودی ویزا بائیو ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے رجسٹریشن یا انگلیوں کے نشانات کی تصدیق میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان افراد کی سہولت کیلئے ملک بھر میں 6 تاشیر سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ عازمین حج کیلئے اولین ترجیح سعودی ویزا بائیو ایپ کا استعمال ہونا چاہیے، جو موبائل پلے اسٹور سے با آسانی ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی کشمیر منایا جا رہا ہے
اس ایپ پر اپنی ای میل کے ذریعے رجسٹریشن کریں، پاسپورٹ اسکین، سیلفی اور دونوں ہاتھوں کے فنگر پرنٹس کی تصدیق کریں، جس کے بعد آپ کو ایک کنفرمیشن ای میل آئے گی، جسے عازمین حج اپنے باقی پراسیس کے لیے محفوظ کر لیں۔
ایپ استعمال کرنے میں مشکلات پیش آنے پر اپنے متعلقہ بینک کی برانچ سے بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے۔ اگر عازمین کو ایپ کے ذریعے تصدیق نہ ہو سکے تو وہ ملک بھر میں قائم 6 تاشیر سینٹرز سے بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔
ان سینٹرز میں اسلام آباد میں عوامی ٹریڈ سینٹر، تیسری منزل، سیکٹر جی نائن، لاہور میں دی انٹرپرائز بلڈنگ، 1 کلومیٹر ٹھوکر نیاز بیگ، ملتان روڈ، کراچی میں بلاک اے، گراؤنڈ فلور، ایف ٹی سی بلڈنگ، شاہراہ فیصل، پشاور میں تیسری منزل، الحاج ٹاور، مین یونیورسٹی روڈ، ملتان میں دوسری منزل، کرسٹل مال، نزد عثمان آباد کالونی، بوسن روڈ، کوئٹہ میں میمار پلازہ، خوجک روڈ، کوئٹہ کینٹ شامل ہیں۔
پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت جاری رکھے گا: صدر و وزیراعظم
ان سینٹرز کے اوقات پیر تا جمعہ دوپہر ایک بجے سے شام پانچ بجے تک ہیں۔ عازمین آج آخری تاریخ 8 فروری سے قبل بائیو میٹرک لازمی کروا لیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بائیو میٹرک
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں