یومِ یکجہتی کشمیر، پاکستان اور آزاد کشمیر کا مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام سے غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
یومِ یکجہتی کشمیر پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی مظلوم عوام کے لیے غیر متزلزل عزم اور بھرپور یکجہتی کے اظہار کے طور پر منایا گیا۔ یہ دن ہر سال پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں قومی یکجہتی اور اصولی مؤقف کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
یومِ یکجہتی کشمیر کا بنیادی مقصد کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی مستقل اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرنا ہے۔ اس موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی جاتی ہے۔
یومِ یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے تجدیدِ عزم کا دن ہے۔ اس دن انسانی زنجیروں، ریلیوں اور میڈیا مہمات کے ذریعے یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ تنازع ہے اور اس کا حل عالمی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔
پاکستان اور آزاد کشمیر کی قیادت اور عوام کی جانب سے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دلانے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے۔
یومِ یکجہتی کشمیر اس عزم کی تجدید بھی ہے کہ پاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر خطے میں دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔