کنوارے مرد و خواتین کو رہائش نہ دینا غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک :وفاقی محتسب سیکرٹریٹ برائے انسداد ہراسانی نے کنوارے مرد و خواتین کو رہائش نہ دینا غیرقانونی اور غیرآئینی قرار دیدیا, خاتون درخواست گزار نے نجی عمارت انتظامیہ کیخلاف درخواست دی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی کرایہ داری معاہدہ کنواروں کو رہائشی سہولت دینے سے نہیں روکتا, اس نوعیت کی کوئی بھی پابندی واضح طور پر امتیازی ہے۔ اس نوعیت کی پابندی ابتدا ہی سے کالعدم سمجھی جائے گی ۔ کنوارا ہونا رہائش سے محروم کرنے کی کوئی قانونی وجہ نہیں بن سکتا ۔ ایسی پابندیاں مساوات اور رہائشی آزادی جیسے بنیادی آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔
ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کرنیوالے شخص کو عمر قید
وفاقی محتسب سیکرٹریٹ برائے انسداد ہراسانی نے فیصلہ وفاقی و صوبائی حکام ، رینٹ کنٹرولرز ، ریگولیٹرز اور متعلقہ فریقین کو ارسال کر دیا ۔
درخواست گزار خاتون نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ شرائط پر عمل کے باوجود بیچلرز ہونے کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا اور رہائش دینےسے انکار کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔