ایران کے ساتھ نیوکلیئر مذاکرات جمعہ کو مسقط میں ہوں گے، امریکا کی تصدیق
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات جمعہ کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ مذاکرات جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے مسقط میں ہوں گے۔ امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق واشنگٹن نے تہران کو واضح کیا کہ مذاکرات کے مقام یا فارمیٹ میں تبدیلی کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی، اور اگر ایران اس فارمیٹ میں واپس آتا ہے تو امریکا اس ہفتے یا اگلے ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکا ایران مذاکرات، پی ٹی آئی احتجاج اور بھارت میچ بائیکاٹ کی اپ ڈیٹ
ایرانی ذرائع نے کہا کہ امریکا نیوکلیئر مذاکرات سے باہر دفاعی اور قومی سلامتی کے دیگر امور اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو تہران کے مطابق غیر قابلِ مذاکرہ ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ صرف متفقہ دائرہ کار کے اندر، نیوکلیئر امور پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔
اس سے قبل مذاکرات کے لیے استنبول کو بھی تجویز کیا گیا تھا، جس میں ترکی نے ثالثی کرکے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔ عمان پہلے بھی فریقین کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں ثالث کا کردار ادا کرچکا ہے۔
مزید پڑھیں: بیلسٹک میزائل ایران کی شاندار دفاعی قوت، جانیے ان ہتھیاروں کی اصل صلاحیتیں
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکی فوج کی خلیج فارس میں تعیناتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باعث واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کشیدہ ہیں۔
امریکا اور اس کا اتحادی اسرائیل ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ تہران کہتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، جس میں بجلی پیدا کرنا شامل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران عمان مسقط وائٹ ہاؤس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران وائٹ ہاؤس کے لیے
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔