وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات جمعہ کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہوں گے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ مذاکرات جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے مسقط میں ہوں گے۔ امریکی خبر رساں ادارے Axios کے مطابق واشنگٹن نے تہران کو واضح کیا کہ مذاکرات کے مقام یا فارمیٹ میں تبدیلی کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی، اور اگر ایران اس فارمیٹ میں واپس آتا ہے تو امریکا اس ہفتے یا اگلے ہفتے ملاقات کے لیے تیار ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکا ایران مذاکرات، پی ٹی آئی احتجاج اور بھارت میچ بائیکاٹ کی اپ ڈیٹ

ایرانی ذرائع نے کہا کہ امریکا نیوکلیئر مذاکرات سے باہر دفاعی اور قومی سلامتی کے دیگر امور اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو تہران کے مطابق غیر قابلِ مذاکرہ ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ صرف متفقہ دائرہ کار کے اندر، نیوکلیئر امور پر بات کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس سے قبل مذاکرات کے لیے استنبول کو بھی تجویز کیا گیا تھا، جس میں ترکی نے ثالثی کرکے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔ عمان پہلے بھی فریقین کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں ثالث کا کردار ادا کرچکا ہے۔

مزید پڑھیں: بیلسٹک میزائل ایران کی شاندار دفاعی قوت، جانیے ان ہتھیاروں کی اصل صلاحیتیں

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکی فوج کی خلیج فارس میں تعیناتی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے باعث واشنگٹن اور تہران کے تعلقات کشیدہ ہیں۔

امریکا اور اس کا اتحادی اسرائیل ایران پر ایٹمی ہتھیار بنانے کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ تہران کہتا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے، جس میں بجلی پیدا کرنا شامل ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران عمان مسقط وائٹ ہاؤس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا ایران وائٹ ہاؤس کے لیے

پڑھیں:

ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ

تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا