نوشکی: احمد وال اسٹیشن پر مال بردار ٹرین پر راکٹ حملہ، انجن تباہ، پل بھی دھماکے سے اڑا دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک بار پھر سیکیورٹی چیلنجز نے سر اٹھا لیا ہے، نامعلوم مسلح افراد نے احمد وال ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار ٹرین کو راکٹ سے نشانہ بنایا، جس سے ٹرین کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پولیس اور ریلوے ذرائع کے مطابق یہ حملہ گزشتہ رات کے اوقات میں ہوا، جب ٹرین گزشتہ پانچ دنوں سے اسی اسٹیشن پر کھڑی تھی۔
ریلوے حکام نے بتایا کہ راکٹ لگنے سے انجن مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا ہے، اور اب ٹرین کو لے جانے کے لیے دوسرا انجن بھیجنے کا انتظام کیا جا رہا ہے، مگر ابھی تک متبادل انجن نہیں پہنچ سکا، اس حملے سے خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم ریلوے ٹریک اور سامان کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔
احمد وال ریلوے اسٹیشن نوشکی اور آس پاس کے علاقوں کے لیے اہم لاجسٹک پوائنٹ ہے، جہاں سے سامان کی ترسیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے۔
اسی علاقے میں گلنگور کے مقام پر بھی نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد سے قومی شاہراہ (نیشنل ہائی وے) پر ایک اہم پل کو نشانہ بنایا،جس سے پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پل کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہو سکتی ہے۔
یہ پل نوشکی اور دیگر اضلاع کو ملانے والا اہم راستہ ہے،اور اس کی تباہی سے آمدورفت میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
ریلوے حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے بعد فوری طور پر علاقے کی تلاشی شروع کر دی گئی ہے اور سیکیورٹی فورسز نے احمد وال اور آس پاس کے علاقوں میں گشت بڑھا دی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات جاری ہیں، تاہم ابھی تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
یہ واقعات بلوچستان میں ریلوے اور شاہراہوں پر مسلسل خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں گزشتہ چند ماہ میں متعدد حملوں نے ٹرانسپورٹ سسٹم کو متاثر کیا ہے، مسافروں اور تاجروں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ ایسی کارروائیوں سے سامان کی ترسیل اور روزمرہ زندگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔
سیکیورٹی فورسز نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صورتحال پر مکمل کنٹرول ہے، اور جلد ہی مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گاتاہم،علاقے میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی وارداتوں کو روکا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔