بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل فیس بک ری ایکشنز میں ہیرا پھیری: بوٹس کے منظم استعمال کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے قومی انتخابات سے قبل فیس بک پر جعلی ری ایکشنز، بالخصوص ’ہاہا‘ ایموجی، کے ذریعے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور عوامی تاثر کو متاثر کرنے کے لیے بوٹس اور کلک فارمز کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔
ڈھاکا سے شائع ہونے والے اخبار دی ڈیلی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق مختلف سیاسی دھڑوں سے منسلک منظم نیٹ ورکس نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے پوسٹس پر تمسخر آمیز ری ایکشنز کی بھرمار کی، جس کا مقصد مواد کی رسائی کم کرنا، مخالفت کا مصنوعی تاثر پیدا کرنا اور بعض حلقوں میں حمایت کو بڑھا چڑھا کر دکھانا تھا۔
مزید پڑھیں: ٹی20 ورلڈکپ تنازع: بنگلہ دیش نے پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا
تحقیق میں بتایا گیا کہ سیاسی نوعیت کی حساس پوسٹس پر آنے والے قریباً ہر 5 میں سے ایک ’ہاہا‘ ری ایکشن مشکوک یا جعلی پروفائلز سے آیا، جن میں سے کئی اکاؤنٹس پر ذاتی معلومات موجود نہیں تھیں، غیر ملکی نام استعمال کیے گئے تھے اور سرگرمی کے نمونے خودکار نظام کی نشاندہی کرتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم 4 ایسے منظم گروپس کی نشاندہی کی گئی جو مختلف سیاسی جماعتوں، جماعتِ اسلامی، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور سابق حکمراں عوامی لیگ کے حامیوں سے منسلک تھے۔ ان گروپس نے حریف جماعتوں، صحافیوں اور میڈیا اداروں کی پوسٹس پر اجتماعی طور پر ’ہاہا‘ ری ایکشنز ڈال کر فیس بک کے الگورتھم کا فائدہ اٹھایا، جس سے نشانہ بنائے گئے مواد کی رسائی متاثر ہوئی۔
تحقیق میں ایک فعال آن لائن مارکیٹ کا بھی انکشاف ہوا جہاں موبائل ادائیگیوں کے ذریعے کم قیمت پر جعلی ری ایکشنز، فالوورز اور انگیجمنٹ خریدی جا سکتی ہے۔ متعدد کلک فارمز نے کھلے عام ایسی خدمات کی تشہیر کی، جبکہ بوٹ اکاؤنٹس بنگلہ دیش کے علاوہ ویتنام، تھائی لینڈ اور پاکستان میں موجود سرورز سے منسلک پائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سینکڑوں بوٹ اکاؤنٹس کم از کم 6 انتخابی امیدواروں کی مقبولیت بڑھانے کے لیے بھی استعمال ہوئے، اور بعض مواقع پر وہی بوٹس مختلف اور مخالف سیاسی صفحات پر سرگرم نظر آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سرگرمیاں نظریاتی کے بجائے تجارتی بنیادوں پر کی جا رہی تھیں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کا ’محفوظ اور انسان دوست بنگلہ دیش‘ کے لیے 26 نکاتی انتخابی منشور جاری
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی ڈیجیٹل ہیرا پھیری انتخابی شفافیت کے لیے سنگین خطرہ ہے کیونکہ اس سے مصنوعی بیانیے تشکیل پاتے ہیں اور عوامی رائے گمراہ ہوتی ہے۔ اگرچہ فیس بک کی مالک کمپنی میٹا مصنوعی انگیجمنٹ پر پابندی عائد کرتی ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق اس پر مؤثر عملدرآمد تاحال ناکافی ہے۔ میٹا نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
دریں اثنا، بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے انتخابات سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے اضافی حفاظتی اقدامات کی درخواست کی ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق مربوط غلط معلومات اور ڈیجیٹل ہراسانی بدستور ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن بنگلہ دیش فیس بک ہیرا پھیرا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن بنگلہ دیش فیس بک ہیرا پھیرا رپورٹ کے مطابق ری ایکشنز بنگلہ دیش کے لیے فیس بک
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔