عالمی برادری کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کا نوٹس لے۔
یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہندوتوا پر مبنی نظام کے تحت مقبوضہ کشمیر کے عوام کو شدید امتیازی سلوک کا سامنا ہے، عالمی برادری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنائے اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خود ارادیت دلانے کیلئے فیصلہ کُن اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر کھڑا رہے گا، ہماری تمام کوششیں مسئلہ کشمیر کے پُرامن، منصفانہ اور دیرپا حل کے حصول پر مرکوز رہیں گی۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے، غیر قانونی بھارتی قبضے کے باعث کشمیری عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں، تاہم کشمیریوں کی ثابت قدمی ان کے مؤقف کی حقانیت کا واضح ثبوت ہے۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔