اشولیا ہلاکتیں: سابق بنگلہ دیشی رکنِ پارلیمنٹ محمد سیف الاسلام کو سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل 2 نے اشولیا میں جولائی کی عوامی بغاوت کے دوران 6 افراد کے قتل اور لاشیں جلانے کے مقدمے میں سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد سیف الاسلام کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔
استغاثہ کے مطابق 5 اگست 2024 کو 6 افراد کو گولی مار کر قتل کیا گیا اور لاشیں نذرِ آتش کی گئیں، جن میں ایک شخص کو زندہ جلایا گیا۔ مقدمے میں 16 افراد نامزد ہیں، جن میں 8 گرفتار اور 8 مفرور ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور قلندرز نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو 6 کروڑ روپے سے زائد میں براہِ راست سائن کرلیا
یہ فیصلہ ٹربیونل 2 کا پہلا فیصلہ ہے، جسے جولائی بغاوت کے بعد بنگلہ دیش میں احتساب کے عمل کی ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشولیا ہلاکتیں انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل 2 بنگلہ دیش محمد سیف الاسلام.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل 2 بنگلہ دیش محمد سیف الاسلام بنگلہ دیش
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔