ازبک صدر پاکستان پہنچ گئے، پرتپاک استقبال، 21 توپوں کی سلامی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے استقبال کیا۔۔ازبک مہمان کا نور خان ایئربیس پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا، 21 توپوں کی سلامی دی گئی، ثقافتی ملبوسات میں ملبوس بچوں نے گلدستے پیش کیے، بچوں نے دونوں ملکوں کے پراچم تھام رکھے تھے۔اس موقع پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی موجود تھے جبکہ ازبک صدر کے ساتھ اعلیٰ سطح کا وفد بھی آیا ہے۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ازبکستان کے صدر وزیراعظم اور صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے جبکہ شہباز شریف اور شوکت مرزیایوف کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔ترجمان نے بتایا کہ ازبک صدر پاکستان۔ازبکستان بزنس فورم سے خطاب کریں گے، پاک۔ازبک مذاکرات میں تجارت، توانائی اور دفاعی تعاون پر بات ہوگی جبکہ تعلیم، عوامی روابط اور علاقائی رابطوں کے فروغ پر بھی زور دیا جائے گا۔خیال رہے ازبک صدر شوکت مرزیایوف کا پاکستان کا یہ دوسرا دورہ ہوگا، دورہ پاک۔ازبک تعلقات میں تیزی سے بہتری کی عکاسی کرتا ہے، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔