فلسطینیوں کے لیے خطرناک قانون؟ اسرائیل کا متنازعہ ڈیتھ پینلٹی بل عالمی تنقید کی زد میں
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
جنیوا: اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مبینہ دہشت گردی کے جرائم پر لازمی سزائے موت سے متعلق مجوزہ قانون واپس لے، کیونکہ یہ انسانی حقِ حیات کی کھلی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اقدام ہوگا۔
اقوامِ متحدہ کے ایک درجن سے زائد آزاد ماہرین نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے گزشتہ سال نومبر میں اس بل کی ابتدائی منظوری دی تھی، جو انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کے مطالبے پر پیش کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق لازمی سزائے موت عدالتی انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے، کیونکہ اس میں عدالت کو ملزم کے حالات، نیت اور دیگر رعایتی پہلوؤں پر غور کرنے کا اختیار نہیں دیا جاتا۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو مغربی کنارے میں فوجی عدالتیں ایسے مقدمات میں بھی سزائے موت دے سکیں گی جہاں قتل دانستہ نہ ہو۔ جبکہ اسرائیل اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں یہ سزا صرف اسرائیلی شہریوں یا رہائشیوں کے دانستہ قتل تک محدود ہوگی۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا کہ اسرائیلی قوانین میں دہشت گردی کی تعریف مبہم اور حد سے زیادہ وسیع ہے، جس کے باعث ایسے افعال کو بھی دہشت گردی قرار دیا جا سکتا ہے جو درحقیقت اس زمرے میں نہیں آتے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ فوجی عدالتوں میں فلسطینی شہریوں کے مقدمات عموماً بین الاقوامی معیار کے مطابق منصفانہ نہیں ہوتے، اس لیے ایسی عدالتوں کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت حقِ حیات کی مزید خلاف ورزی ہوگی۔
بیان میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ مجوزہ قانون کے تحت فوجی ججوں کی سادہ اکثریت سے سزائے موت سنائی جا سکے گی۔
دوسری جانب حماس نے اس قانون کو اسرائیلی انتہاپسندی اور فسطائیت کی علامت قرار دیا، جبکہ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اسے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جرائم میں مزید اضافے کا نیا طریقہ کہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ماہرین نے سزائے موت
پڑھیں:
پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔
ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔
View this post on Instagramقومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔
اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔