ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ: طالبان دور میں افغانستان میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ورلڈ رپورٹ 2026 میں افغانستان میں طالبان حکومت کے دوران انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے اقتدار میں انصاف، بنیادی حقوق اور آزادیوں کی صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے، جس سے ملک میں انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق افغانستان میں جسمانی سزائیں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور تشدد کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان حکومت کے تحت میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ سول سوسائٹی، صحافیوں اور اقلیتی برادریوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق طالبان نے خواتین پر عائد پابندیوں، تشدد اور بنیادی حقوق کی معطلی کے ذریعے انہیں عملی طور پر ریاستی نظام سے باہر کر دیا ہے، جس کے باعث خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی شرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کی ناقص حکمرانی نے افغان عوام کو شدید معاشی اور سماجی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کی داخلی ناکامیاں نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔
رپورٹ اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کی پالیسیاں سرحدی سلامتی اور علاقائی امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہیں، جن پر عالمی برادری کو فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔