افغانستان میںچھوڑا گیا اسلحہ پاکستان اور ہمسایہ ممالک کیلئے سنگین سکیورٹی خطرہ بن چکا ہے،سی این این
ہتھیار ابتدائی طور پر سابق افغان فوج کی صلاحیت بڑھانے کیلئے فراہم کیے گئے تھے، تفصیلی رپورٹ جاری

افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا جدید امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کیلئے سنگین سکیورٹی خطرہ بن چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ ہتھیار ابتدائی طور پر سابق افغان فوج کی صلاحیت بڑھانے کیلئے فراہم کیے گئے تھے، تاہم امریکی انخلا کے وقت یہ اسلحہ بڑی مقدار میں افغانستان میں چھوڑ دیا گیا۔افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق امریکی ادارے سگار کے سابق سربراہ جان سوپکو کے مطابق امریکی افواج کے انخلا کے دوران تقریباً 3 لاکھ جدید امریکی ہتھیار افغانستان میں موجود تھے۔سی این این کے مطابق ان ہتھیاروں تک دہشت گرد تنظیموں کی رسائی نے دہشت گرد حملوں کی نوعیت اور شدت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال چین، ایران اور پاکستان کیلئے خصوصی طور پر خطرناک سمجھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گرد امریکی ساختہ جدید رائفلز، مشین گنز اور اسنائپر ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، دہشت گردوں کے زیر استعمال ہتھیاروں میں M-4، M-16، M-249 مشین گنز،Remington اسنائپر رائفلز اور نائٹ وژن ڈیوائسز شامل ہیں۔سی این این کے مطابق اگست 2025 میں امریکا نے بی ایل اے کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والے امریکی مہر لگے ہتھیار سی این این کے نمائندوں کو دکھائے، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں کے دوران یہی جدید امریکی اسلحہ استعمال ہوا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ہتھیاروں اور نائٹ وژن آلات کی دستیابی دہشت گردوں کی صلاحیت میں اضافے کا باعث بنی ہے اور یہ اسلحہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، جس سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: افغانستان میں کے مطابق

پڑھیں:

مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی

پشاور:

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔

متعلقہ مضامین

  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 4 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ اور سہولت کار بھی پکڑے گئے
  • حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف