امریکی جدید اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
افغانستان میںچھوڑا گیا اسلحہ پاکستان اور ہمسایہ ممالک کیلئے سنگین سکیورٹی خطرہ بن چکا ہے،سی این این
ہتھیار ابتدائی طور پر سابق افغان فوج کی صلاحیت بڑھانے کیلئے فراہم کیے گئے تھے، تفصیلی رپورٹ جاری
افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد چھوڑا گیا جدید امریکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق یہ اسلحہ نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان کے تمام ہمسایہ ممالک کیلئے سنگین سکیورٹی خطرہ بن چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ ہتھیار ابتدائی طور پر سابق افغان فوج کی صلاحیت بڑھانے کیلئے فراہم کیے گئے تھے، تاہم امریکی انخلا کے وقت یہ اسلحہ بڑی مقدار میں افغانستان میں چھوڑ دیا گیا۔افغانستان کی تعمیر نو سے متعلق امریکی ادارے سگار کے سابق سربراہ جان سوپکو کے مطابق امریکی افواج کے انخلا کے دوران تقریباً 3 لاکھ جدید امریکی ہتھیار افغانستان میں موجود تھے۔سی این این کے مطابق ان ہتھیاروں تک دہشت گرد تنظیموں کی رسائی نے دہشت گرد حملوں کی نوعیت اور شدت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال چین، ایران اور پاکستان کیلئے خصوصی طور پر خطرناک سمجھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گرد امریکی ساختہ جدید رائفلز، مشین گنز اور اسنائپر ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، دہشت گردوں کے زیر استعمال ہتھیاروں میں M-4، M-16، M-249 مشین گنز،Remington اسنائپر رائفلز اور نائٹ وژن ڈیوائسز شامل ہیں۔سی این این کے مطابق اگست 2025 میں امریکا نے بی ایل اے کو باضابطہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے برآمد ہونے والے امریکی مہر لگے ہتھیار سی این این کے نمائندوں کو دکھائے، جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والے متعدد دہشت گرد حملوں کے دوران یہی جدید امریکی اسلحہ استعمال ہوا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ہتھیاروں اور نائٹ وژن آلات کی دستیابی دہشت گردوں کی صلاحیت میں اضافے کا باعث بنی ہے اور یہ اسلحہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، جس سے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: افغانستان میں کے مطابق
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
سری نگر(آئی پی ایس )مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق رپورٹ کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک 96 ہزار 499 افراد شہید جبکہ ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا.اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ اور ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم ہوئے۔ جولائی 2026 میں بھارتی فورسز کے بڑے پیمانے پر کریک ڈان کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا اور متعدد مکانات مسمار کیے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں بھارتی فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں سرچ اور محاصرے کی کارروائیاں تیز کر دیں۔ کلگام، پلوامہ، شوپیاں، اسلام آباد (اننت ناگ)، سرینگر، گاندربل، بارہمولہ، بڈگام، کپواڑہ، بانڈی پورہ، اونتی پورہ اور ہندواڑہ سمیت کئی علاقوں میں گھروں پر چھاپے مارے گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 3 ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ شہریوں کو سخت تلاشی، نگرانی اور نقل و حرکت کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی حکام کے مطابق سرچ آپریشنز کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور مزید کارروائیاں جاری رہیں گی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جولائی میں ضلع اسلام آباد (اننت ناگ) میں بھارتی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد وادی بھر میں کریک ڈان مزید تیز کیا گیا۔ اس دوران بھارتی انتظامیہ نے بیج بہاڑہ میں عادل ٹھوکر اور حسن پورہ میں ہارون گنائی کے مکانات بھی مسمار کردیے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری 1989 سے جولائی 2026 تک مقبوضہ کشمیر میں مجموعی طور پر 96 ہزار 499 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 ہزار 419 مبینہ حراستی یا جعلی مقابلوں میں شہادتیں شامل ہیں۔ اس دوران ایک لاکھ 84 ہزار 149 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے، جبکہ ایک لاکھ 10 ہزار 605 سے زائد مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں 22 ہزار 992 خواتین بیوہ، ایک لاکھ 8 ہزار 9 بچے یتیم اور 11 ہزار 278 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے جولائی 2026 تک ایک ہزار 66 افراد شہید ہوئے، جن میں 295 مبینہ حراستی شہادتیں یا جعلی مقابلے شامل ہیں۔ اس عرصے میں 2 ہزار 702 افراد تشدد یا شدید زخمی ہوئے، 37 ہزار 210 سے زائد گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ ایک ہزار 211 سے زائد مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اس دوران 84 خواتین بیوہ، 234 بچے یتیم اور 148 خواتین مبینہ طور پر زیادتی یا اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرلاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی اگلی خبرجدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم