انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ 2026 کے دوسرے سیمی فائنل میں بھارت نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر ریکارڈ 10ویں بار فائنل میں جگہ بنالی۔ یہ میچ بدھ کے روز ہرارے اسپورٹس کلب میں کھیلا گیا۔

افغانستان کی جانب سے دیے گئے 311 رنز کے بڑے ہدف کو بھارت نے محض 41.1 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا، جو انڈر 19 مینز ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے بڑا کامیاب تعاقب بھی ہے۔

مزید پڑھیں: بابراعظم نے ٹی20 انٹرنیشنل میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا، ویرات کوہلی کو پیچھے چھوڑ دیا

بھارت کی کامیابی کی بنیاد اوپنرز آرون جارج اور ویبھو سوریہ ونشی نے رکھی، جنہوں نے صرف 9.

3 اوورز میں 90 رنز کی برق رفتار شراکت قائم کی۔ ویبھو سوریہ ونشی نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 33 گیندوں پر 68 رنز اسکور کیے، جن میں 4 چھکے اور 9 چوکے شامل تھے۔

سوریہ ونشی کے آؤٹ ہونے کے بعد آرون جارج اور کپتان آیوش مہاترے نے 114 رنز کی شاندار شراکت قائم کی، جس نے میچ افغانستان کی پہنچ سے دور کردیا۔ مہاترے 59 گیندوں پر 62 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ان کی اننگز میں 4 چھکے اور 5 چوکے شامل تھے۔

آرون جارج نے اپنی اننگز جاری رکھتے ہوئے شاندار سینچری اسکور کی اور بعد ازاں ویہان ملہوترا کے ساتھ 96 رنز کی ایک اور اہم شراکت قائم کی۔ جارج 104 گیندوں پر 115 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جن میں 15 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ ویہان ملہوترا 38 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے۔

افغانستان کی جانب سے نورستانی عمرزئی نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

مزید پڑھیں: پاک بھارت 4 روزہ جنگ: انڈیا نے لڑائی سے جان چھڑانے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ سے مدد لی، ’دی ہندو‘ کے اہم انکشافات

اس سے قبل افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 310 رنز بنائے۔ اوپنرز نے 53 رنز کی محتاط شراکت سے اننگز کا آغاز کیا۔ فیصل شینوزادہ اور خالد احمدزئی کے درمیان 64 رنز کی شراکت قائم ہوئی، خالد احمدزئی نے 31 رنز بنائے۔ بعد ازاں فیصل شینوزادہ اور عزیراللہ نیازئی کے درمیان 148 رنز کی شاندار شراکت نے افغانستان کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا۔

فیصل شینوزادہ 93 گیندوں پر 110 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ عزیراللہ نیازئی نے 86 گیندوں پر ناقابلِ شکست 101 رنز اسکور کیے، جن میں 12 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ بھارت کی جانب سے کنشک چوہان اور دیپیش دیویندرن نے دو، 2 وکٹیں حاصل کیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی سی سی انڈر 19 مینز کرکٹ ورلڈ کپ افغانستان بھارت ہرارے

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی سی سی انڈر 19 مینز کرکٹ ورلڈ کپ افغانستان بھارت شراکت قائم گیندوں پر شامل تھے ورلڈ کپ رنز کی

پڑھیں:

غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی

اسلام آباد:

سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ارکان نے کہا ہے کہ غیر ضروری وزارتوں کو ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے تک کی بچت کرنا ممکن ہے۔

سینیٹر ضمیر حسین کی زیر صدارت سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اختیارات کی منتقلی اور اس پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران وفاقی حکومت کی تنظیمِ نو، وزارتوں کی تعداد کم کرنے اور آئینی تقاضوں کے مطابق وفاقی حکومت کے دائرۂ کار کو محدود رکھنے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔

کمیٹی ارکان نے کہا کہ غیر ضروری وزارتیں ختم کر کے سالانہ 4 سے 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے ۔ وفاقی حکومت کو آئین کے مطابق محدود دائرۂ کار میں کام کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے مشترکہ مفادات کونسل کے آئینی کردار اور اختیارات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس کے دوران سینیٹر جان محمد بلیدی نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس نہ ہونے سے آئینی تقاضے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی ضروری ہے، آئی ایم ایف پر انحصار کم کرنے کے لیے وفاقی اخراجات اور وزارتوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، جبکہ این ایف سی اور مشترکہ مفادات کونسل سمیت آئینی اداروں کو فعال بنایا جائے۔

کمیٹی میں اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ آئینی ادارے فعال ہوں گے تو وفاق اور صوبوں کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے۔

سینیٹر ضمیر حسین نے کہا کہ سندھ سے روزانہ 3 ارب 70 کروڑ روپے کا تیل نکلتا ہے لیکن صوبے کو کچھ نہیں دیا جاتا، جبکہ خیبرپختونخوا سے 42 فیصد تیل نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن صوبوں سے تیل اور گیس نکل رہی ہے انہیں 16 سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، کمپنیاں اور کارپوریشنز منافع کما رہی ہیں جبکہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کو تیل اور گیس کے پیسے کیوں نہیں دے رہی۔ صوبوں کو ان کا حصہ نہ دینا بری حکمرانی ہے۔ حکومت نہ اٹھارہویں آئینی ترمیم پر عملدرآمد کر رہی ہے اور نہ ہی صوبوں کو سپورٹ کر رہی ہے۔

اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(جی) پر عملدرآمد سے متعلق تقرریوں کے طریقہ کار پر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی گئی جبکہ وزارتِ پیٹرولیم نے آئین کے آرٹیکل 172(3) پر عملدرآمد کے حوالے سے بریفنگ دی۔ کنویئر کمیٹی نے زور دیا کہ ہر ادارہ اپنی آئینی ذمہ داری ادا کرے اور آئین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

کنویئر کمیٹی نے کہا کہ تیل و گیس پیدا کرنے والے صوبوں کو ان کا آئینی حق نہ دینا سنگین خلاف ورزی ہے ۔ خیبرپختونخوا و سندھ کو تیل و گیس سے حاصل ہونے والے فوائد سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

بعد ازاں کمیٹی نے تیل و گیس پیدا کرنے والے علاقوں کی متعلقہ اداروں میں نمائندگی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تیل و گیس سے حاصل آمدن کی مکمل تفصیلات کمیٹی کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

کمیٹی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کے بغیر وفاق مضبوط نہیں ہو سکتا، آئین پر عمل نہ ہونے سے سیاسی اور انتظامی مسائل جنم لیتے ہیں۔ سرکاری اداروں میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے قومی وسائل بچائے جا سکتے ہیں، اس لیے ڈپلیکیٹ محکموں اور غیر ضروری اخراجات کا بھی جامع جائزہ لیا جانا چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی