ازبکستان کے صدر دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے، جہاں ان کا پرتپاک استقبال صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے کیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نور خان ایئر بیس پر منعقدہ استقبال کے موقع پر ثقافتی لباس میں ملبوس بچوں نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف کو گلدستے پیش کیے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر خان، اعلیٰ سول و عسکری حکام اور سفارتی عملے کے ارکان بھی موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق دورے کے دوران ازبک صدر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، تجارتی سرمایہ کاری، توانائی، ٹرانسپورٹ اور دیگر باہمی تعاون کے شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کئی مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جو خطے میں اقتصادی و تجارتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کا پیش خیمہ ہوں گے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے ہونے والی علیحدہ ملاقات میں خطے کی موجودہ سیاسی صورتحال، سکیورٹی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور زیرِ غور آئیں گے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دینے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے پر زور دیا جائے گا، جبکہ ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں بھی تعاون کے نئے منصوبے متعارف کرائے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق ازبکستان اور پاکستان کے درمیان تجارتی اور علاقائی تعلقات میں موجودہ پیش رفت، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان اقتصادی روابط مضبوط کرنے کے لیے اہم سنگِ میل ثابت ہوگی، جبکہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد اور باہمی تعاون میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔