لاہور: پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
فوٹو: آن لائن
بسنت پر مذہبی ہم آہنگی اور امنِ عامہ برقرار رکھنے کیلئے بعض پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
محکمہ داخلہ نے نوٹی فکیشن جاری کردیا، جس کے مطابق پتنگوں پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی شخصیت کی تصویر لگانے پر پابندی ہے، کسی ملک یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر والی پتنگیں بھی نہیں اڑائی جائیں گی۔
مذہبی و سیاسی نقش و نگار والی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال پر پابندی ہے۔
لاہور کی پتنگ بازی
محکمہ داخلہ کے نوٹی فکیشن کے مطابق بغیر تصویر یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہے، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر قانون نافذ کرنے والے ادارے سخت کارروائی کریں گے، دھاتی تار اور نائلون ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے۔
لاہور میں بسنت کے دوران موٹر سائیکل پر سیفٹی راڈ کا استعمال لازم ہے، ہوائی فائرنگ اور اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔