پاک ،اردن 10ویں مشترکہ وزارتی کمیشن میں 16شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پاک ،اردن 10ویں مشترکہ وزارتی کمیشن میں 16شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 5 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان اور اردن نے ترجیحی تجارتی معاہدے کے حصول پر مشاورت شروع کرنے اور باہمی تعاون کو 16 ترجیحی شعبوں تک وسعت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ ان شعبوں میں تجارت، مالیات، صنعت، ماحولیاتی تبدیلی، بحری امور، صحت، ٹیکنالوجی اور تعلیم شامل ہیں۔ اس مقصد کے لیے دونوں ممالک کے درمیان ایک پروٹوکول پر دستخط کیے گئے، جس کا ہدف تاریخی، سیاسی اور سفارتی تعلقات کو ٹھوس معاشی اور ادارہ جاتی نتائجترجیحی تجارتی معاہدے کے میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ اتفاقِ رائے پاکستان اردن مشترکہ وزارتی کمیشن کے 10ویں اجلاس کے دوران ہوا، جو 4 تا 5 فروری کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور اردن کے وزیرِ صنعت، تجارت و رسد یارب القضا نے کی۔ یہ اجلاس 1975 میں قائم جے ایم سی فریم ورک کے تحت تعاون کو عملی شکل دینے کی جانب ایک نئے عزم اور اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔پروٹوکول پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ تجارت نے کہا کہ جے ایم سی دونوں ممالک کے درمیان نتیجہ خیز تعاون کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے۔اہم پیش رفت کے طور پر، دونوں فریقین نے مارکیٹ تک رسائی بہتر بنانے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنے کے لیے ترجیحی تجارتی معاہدے پر مشاورت شروع کرنے پر اتفاق کیا۔ اس عمل کی قیادت تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ کرے گا، جبکہ پاکستان اردن بزنس کونسل کو فعال بنانے اور کاروبار سے کاروبار (B2B) روابط کے فروغ پر بھی کام کیا جائے گا۔
کمیشن نے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کا بھی خیرمقدم کیا، جس کا مقصد ڈیجیٹل جدت، ٹیکنالوجی خدمات اور دونوں ممالک کے آئی سی ٹی شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے۔اجلاس میں بینکاری و مالیات کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے، بشمول مرکزی بینکوں کے مابین اشتراک، اور صنعت، زراعت، حلال معیارات، تعلیم، مہارتوں کی ترقی، صحت، ماحولیاتی تبدیلی، توانائی، کان کنی، بحری امور، میڈیا، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں ادارہ جاتی روابط اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے ذریعے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔سیکرٹری، وزارتِ اقتصادی امور، محمد ہمائر کریم کِڈوائی نے طے شدہ فیصلوں پر مثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے منظم فالو اپ میکنزم کی اہمیت پر زور دیا۔تعاون کے وسیع دائرہ کار سے دونوں ممالک کے منظم فالو اپ اور عمل درآمد کے مشترکہ عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔ فریقین نے پاکستاناردن اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ وزارتی کمیشن کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اجلاس چیئرمین سی ڈی اے کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اجلاس ملک بھرمیں لاپتا افراد کے کیسز کی تعداد 10ہزار 806تک پہنچ گئی سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں حب الوطنی کی گونج وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت اییکس کمیٹی کا اجلاس ، دہشتگردی کے خاتمے کا عزم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں: چینی سفیر برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے لاہور میں ‘کیلیڈونین بال’ کے ذریعے اسکاٹش–پاکستانی تعلقات کا جشنCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مشترکہ وزارتی کمیشن دونوں ممالک کے پر اتفاق تعاون کے تعاون کو کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔