اسلام آباد، چیف الیکشن کمیشن گلگت بلتستان اور چیئرمین نادرا کی اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اس موقع پر چیئرمین نادرا کی جانب سے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی، جس میں ڈیٹا کی فراہمی، ڈیٹا ٹریولنگ اور تکنیکی معاونت سمیت لیب کے قیام سے متعلق تعاون بھی شامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان اور چیئرمین نادرا لیفٹیننٹ جنرل محمد منیر کے مابین اسلام آباد میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں حالیہ ڈیلیمیٹیشن کے بعد نئے سینسز بلاکس، آئندہ بلدیاتی اور جنرل انتخابات کے تناظر میں الیکٹورل رولز کی اپڈیٹ کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین نادرا کی جانب سے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی، جس میں ڈیٹا کی فراہمی، ڈیٹا ٹریولنگ اور تکنیکی معاونت سمیت لیب کے قیام سے متعلق تعاون بھی شامل ہے۔ چیئرمین نادرا نے اس تعاون کو آئندہ بھی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان نے نادرا کی جانب سے مکمل تعاون پر چیئرمین نادرا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نادرا کا کردار شفاف، منصفانہ اور بروقت انتخابات کے انعقاد میں نہایت اہم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان اور نادرا کے درمیان یہ اشتراک انتخابی عمل کی شفافیت، درستگی اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو گا۔ ملاقات کے دوران پروونشل الیکشن کمشنر گلگت بلتستان عابد رضا اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ یاد رہے کہ نادرا کی جانب سے فراہم کردہ جدید سافٹ ویئر مکمل طور پر کامیابی سے ڈیپلائی کیا جا چکا ہے، جو الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے ساتھ مربوط کر دیا گیا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد انتخابی فہرستوں میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا اپڈیٹ نادرا کے ڈیٹا سے خودکار طور پر ہم آہنگ (Reflect) ہو گی۔ اس نظام کے تحت جو بھی نیا قومی شناختی کارڈ جاری کیا جائے گا، وہ براہ راست انتخابی فہرست میں بھی نظر آئے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن گلگت بلتستان نادرا کی جانب سے چیئرمین نادرا
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔