پاکستان ٹیم بھارت سے میچ کی صورت میں حکومت کی ہدایت پر عمل کرے گی، کپتان سلمان علی آغا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے اعلان کیا ہے کہ اگر ٹی20 ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پاکستان کا مقابلہ بھارت سے ہوا تو ٹیم حکومت پاکستان سے مشورہ لے گی اور ان کی ہدایت کے مطابق عمل کرے گی۔ اس فیصلے کے پس منظر میں بنگلہ دیش کے مقابلے سے انکار اور گروپ اے کے اہم میچ میں بھارت سے نہ کھیلنے کا سیاسی تناؤ بھی شامل ہے۔
گروپ میچز اور حکومت کی ہدایتسلمان آغا نے کولمبو میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت کے ساتھ میچ ٹیم کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ یہ حکومت کا فیصلہ تھا اور اگر سیمی فائنل یا فائنل میں ہمیں ان سے کھیلنا پڑا تو ہم ان کے مشورے کے مطابق حرکت کریں گے۔
پاکستان نے بنگلہ دیش کے کھیلوں سے انکار کی حمایت کی، جس کے بعد بنگلہ دیش کو گروپ سے خارج کر دیا گیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ شامل ہوا۔
گروپ مرحلے کی تیاریپاکستان کو نیمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف گروپ مرحلے میں کھیلنا ہے۔ آغا نے کہا کہ ہم اس ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے پرجوش ہیں۔ پچھلے ورلڈ کپ میں امریکا سے شکست ہوئی تھی، اب ہم اس مایوسی کو پیچھے چھوڑ کر بہتر کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موسم کی وجہ سے کسی گروپ میچ کا نقصان پاکستان کی قابلیت پر اثر ڈال سکتا ہے، مگر ٹیم اچھی کرکٹ کھیلنے پر مرکوز ہے۔
سری لنکا میں سہولت اور فارمپاکستان ٹیم حال ہی میں آسٹریلیا کو 3-0 سے وائٹ واش کر کے آئی ہے۔ آغا نے کہا کہ ہم نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی ہے اور گزشتہ سال ایشیا کپ کے بعد سے کوئی سیریز نہیں ہاری۔ سری لنکا ہماری دوسری گھریلو ٹیم کی طرح ہے، چھٹی بار یہاں آ رہا ہوں، حالات جانتے ہیں اور شائقین کی حمایت حاصل ہے۔
بھارت کی تیاری اور مؤقفدوسری جانب، بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم کولمبو میں پاکستان کے خلاف میچ کے لیے موجود ہوگی، چاہے پاکستان نے کھیلنے سے انکار کر دیا ہو۔ یادو نے کہا کہ ہمارے فلائٹس بک ہیں اور ہم کھیلنے آئیں گے۔ ہر میچ اہم ہے اور کسی ٹیم کو ہلکا نہیں لیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو دہشت گردوں کو وسائل مہیا کررہا ہے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کا کردار واضح ہے جو دہشت گردوں کو وسائل فراہم کررہا ہے، افغان عبوری حکومت دہشت گردی کو روکنے میں بالکل ناکام ہے، افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے،ہم نے افغانستان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو کنٹرول کرے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں صرف عوام قربانیاں نہیں دے رہے بلکہ اس میں ہماری لا اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز شامل ہیں، اس میں ہماری افواج پاکستان کے کڑیل جوان اور افسران شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں اب تک ہمارے 90 ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں اس جنگ کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو انہیں وسائل بھی مہیا کررہا ہے اور اس میں دیگر فیکٹرز بھی ملوث ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا جغرافیائی اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ ہے، بہادر بلوچوں اور پختونوں نے پاکستان کے قیام میں بڑا کردار ادا کیا، ترقی کے دوڑ میں جب تک چاروں صوبے مساویانہ طور پر شریک نہیں ہوں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکے گا اور میں یہ بات دل کی اتھاہ گہرائیوں سے قبول کرتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ بلوچستان کی ترقی میں وفاقی حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔
کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر حملے کی مذمت
دریں اثنا وزیرِاعظم نے کوہاٹ میں ایکسائز اہلکاروں پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ وزیرِ اعظم نے واقعے میں سب انسپکٹر سجاد الاسلام اور کسٹم کانسٹیبل جواد کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا، شہدا کے اہل خانہ کے لیے صبر اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
وزیرِ اعظم نے متعلقہ اہلکاروں کو ذمہ داران کا تعین کرکے انہیں قرار واقعہ سزا دلوانے کی ہدایت کی اور کہا کہ دہشت گردوں کے عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے، شرپسند عناصر کو کسی صورت ملک کا امن تباہ کرنے نہیں دیں گے۔