پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے اعلان کیا ہے کہ اگر ٹی20 ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں پاکستان کا مقابلہ بھارت سے ہوا تو ٹیم حکومت پاکستان سے مشورہ لے گی اور ان کی ہدایت کے مطابق عمل کرے گی۔ اس فیصلے کے پس منظر میں بنگلہ دیش کے مقابلے سے انکار اور گروپ اے کے اہم میچ میں بھارت سے نہ کھیلنے کا سیاسی تناؤ بھی شامل ہے۔

گروپ میچز اور حکومت کی ہدایت

سلمان آغا نے کولمبو میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت کے ساتھ میچ ٹیم کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ یہ حکومت کا فیصلہ تھا اور اگر سیمی فائنل یا فائنل میں ہمیں ان سے کھیلنا پڑا تو ہم ان کے مشورے کے مطابق حرکت کریں گے۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کے کھیلوں سے انکار کی حمایت کی، جس کے بعد بنگلہ دیش کو گروپ سے خارج کر دیا گیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ شامل ہوا۔

گروپ مرحلے کی تیاری

پاکستان کو نیمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکہ کے خلاف گروپ مرحلے میں کھیلنا ہے۔ آغا نے کہا کہ ہم اس ٹورنامنٹ میں کھیلنے کے لیے پرجوش ہیں۔ پچھلے ورلڈ کپ میں امریکا سے شکست ہوئی تھی، اب ہم اس مایوسی کو پیچھے چھوڑ کر بہتر کارکردگی دکھانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موسم کی وجہ سے کسی گروپ میچ کا نقصان پاکستان کی قابلیت پر اثر ڈال سکتا ہے، مگر ٹیم اچھی کرکٹ کھیلنے پر مرکوز ہے۔

سری لنکا میں سہولت اور فارم

پاکستان ٹیم حال ہی میں آسٹریلیا کو 3-0 سے وائٹ واش کر کے آئی ہے۔ آغا نے کہا کہ ہم نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی ہے اور گزشتہ سال ایشیا کپ کے بعد سے کوئی سیریز نہیں ہاری۔ سری لنکا ہماری دوسری گھریلو ٹیم کی طرح ہے، چھٹی بار یہاں آ رہا ہوں، حالات جانتے ہیں اور شائقین کی حمایت حاصل ہے۔

بھارت کی تیاری اور مؤقف

دوسری جانب، بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم کولمبو میں پاکستان کے خلاف میچ کے لیے موجود ہوگی، چاہے پاکستان نے کھیلنے سے انکار کر دیا ہو۔ یادو نے کہا کہ ہمارے فلائٹس بک ہیں اور ہم کھیلنے آئیں گے۔ ہر میچ اہم ہے اور کسی ٹیم کو ہلکا نہیں لیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم