کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی اچانک اپنے عہدے سے مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مونس علوی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں. جس کے بعد کے الیکٹرک بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیرمین نے مونس علوی کا استعفی منظور کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق جمعرات کو کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد انہوں نے اپنا استعفیٰ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو بھیج دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کے بورڈ کی حتمی منظوری کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسیچج کو اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔ مونس علوی نے کے الیکٹرک میں 18 سال تک خدمات انجام دیں اور وہ سب سے طویل مدت تک کے الیکٹرک کے سی ای او رہنے والے سربراہ تھے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چئیرمین مارک اسکیلٹن نے سی او مونس علوی کا استعفی منظور کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق نئے سی او کے الیکٹرک کے لیے 3 ناموں کو شارٹ لسٹ کرلیا گیا ہے، شارٹ لسٹ کیے گئے تینوں افراد کا تعلق کراچی سے ہے اور انہیں انرجی اور فنانس سیکٹر میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ذرائع کے مطابق کے الیکٹرک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے جب کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے انتخابات رمضان المبارک میں ہوں گے تاہم نیا بورڈ نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری کرے گا۔موجودہ بورڈ شارٹ لسٹ کیے گئے امیدواروں کے انٹرویوز کے بعد اپنی رپورٹ نئے بورڈ کو پیش کرے گا.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بورڈ آف ڈائریکٹرز کے الیکٹرک کے مونس علوی ہے ذرائع سی ای او کے بورڈ کے بعد
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔