محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان نے 5 فروری کو اعلان کیا کہ لاہور میں بسنت کے دوران فلائٹ آپریشنز کو محفوظ بنانے کے لیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹیک آف اور لینڈنگ ایریاز میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے کابینہ کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا، جو 6، 7 اور 8 فروری کے لیے لاگو ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور میں بسنت کا آغاز، وزیراعلیٰ مریم نواز کا لبرٹی چوک کا دورہ، شہریوں سے ملاقات

ایئرکرافٹ لینڈنگ ایریا: نادرآباد، گلشن علی کالونی، نشاط کالونی، بھٹہ چوک، اور DHA لاہور بلاکس P, Q, R, S۔ ایئرکرافٹ ٹیک آف راستے: الفیصل ٹاؤن، جوڑے پل، تاجپورہ سے ملحقہ کینال بینک روڈ اور تاجپورہ کے علاقے۔

یہ پابندیاں پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹیز کی ایوی ایشن سیفٹی سفارشات کی روشنی میں اور Punjab Regulation of Kite Flying Act, 2025 کے سیکشن 6(1) کے تحت جاری کی گئی ہیں۔ باقی تمام شرائط اور ضوابط پہلے نوٹیفکیشن کے مطابق برقرار رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور میں بسنت: قیمتوں اور محفوظ انتظامات پر توجہ

محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا کہ بسنت کے دوران بھی ان علاقوں میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی تاکہ طیاروں کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے دوران کسی قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بسنت علامہ اقبال ایئرپورٹ لاہور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: علامہ اقبال ایئرپورٹ لاہور لاہور میں بسنت کے دوران ٹیک آف

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق