پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 کے لیے افغان اسٹار رحمان اللہ گرباز کو سائن کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
پشاور زلمی نے پی ایس ایل 11 کے آغاز سے قبل افغانستان کے وکٹ کیپر اور جارحانہ بلے باز رحمان اللہ گرباز کو ٹیم میں شامل کر کے پہلا قدم اٹھا دیا ہے۔ زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے سوشل میڈیا پر اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے گرباز کو ’زلمی فیملی‘ میں خوش آمدید کہا۔
یہ بھی پڑھیں:پی ایس ایل 11 میں ریکارڈ ٹوٹ گیا، اسٹیو اسمتھ سب سے مہنگے کھلاڑی بن گئے
رحمان اللہ گرباز ایک جارحانہ ٹاپ آرڈر بلے باز اور تیز رفتار وکٹ کیپر ہیں جو پہلے بھی پی ایس ایل میں کھیل چکے ہیں اور اسلام آباد یونائیٹڈ اور ملتان سلطانز کی نمائندگی کر چکے ہیں، ان کے پاور پلے میں جارحانہ بلے بازی اور بے خوف انداز سے زلمی کو ابتدائی شروعات میں فائدہ ہوگا۔
گرباز اس وقت افغانستان کی ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 اسکواڈ میں شامل ہیں جو 7 فروری سے شروع ہو رہا ہے۔ زلمی کے فینز کی رائے اس حوالے سے مخلوط رہی، خاص طور پر افغانستان-پاکستان کرکٹ تعلقات میں جاری تنازعات کے پیش نظر، کچھ افغان کھلاڑی جیسے رشید خان پی ایس ایل نہ کھیلنے کے فیصلے سے جڑے رہے ہیں جس کی وجہ سے گرباز کی شمولیت پر بحث جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سابق آسٹریلوی کپتان ٹم پین پی ایس ایل فرنچائز سیالکوٹ اسٹالینز کے ہیڈ کوچ مقرر
پی ایس ایل 11 کی ابتدائی مارکیٹ میں دیگر فرنچائزز نے بھی اہم سائننگز کیں، لاہور قلندرز نے بنگلہ دیش کے پیک اسٹار مصتفیض الرحمٰن کو سائن کیا، کراچی کنگز نے معین علی کو شامل کیا، اسلام آباد یونائیٹڈ نے ڈیوون کون وے کو ٹیم میں شامل کیا، جبکہ سیالوکوٹ اسٹالینز نے آسٹریلیا کے سٹیو اسمتھ کو سائن کیا جو سب سے بڑی مارکی سائننگ کے طور پر سامنے آئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغان بلے باز پی ایس ایل رحمان اللہ گرباز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغان بلے باز پی ایس ایل رحمان اللہ گرباز رحمان اللہ گرباز پی ایس ایل 11
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز