حسینہ واجد کی حوالگی سے متعلق بھارت نے ابھی تک جواب کوئی نہیں دیا، بنگلہ دیشی مشیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے مشیر خارجہ محمد توحید حسین نے کہا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات دونوں ممالک کے مختلف قومی مفادات کی وجہ سے رک گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات وزارت خارجہ میں آخری باضابطہ میڈیا بریفنگ کے دوران کہی اور امید ظاہر کی کہ آئندہ منتخب حکومت تعلقات کو بہتر بنا سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش: شیخ حسینہ واجد نے سیاست سے توبہ کرلی، ’عوامی لیگ قائم رہے گی‘، بیٹے کا اعلان
محمد توحید حسین نے کہا کہ عبوری حکومت نے بھارت کے ساتھ تعمیری تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن دورانیے میں تعلقات ہموار نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئی بڑا بحران پیدا نہیں ہوا، لیکن تعلقات میں ٹھہراؤ آ گیا ہے کیونکہ دونوں ممالک اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں جو اکثر ایک دوسرے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔
حسینہ واجد معاملہ اور بھارت کا مؤقفسابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بھارت میں قیام کے حوالے سے توحید حسین نے کہا کہ بنگلہ دیش کو امید رکھنی چاہیے کہ ڈپلومیٹک حل نکلے گا۔ بنگلہ دیش نے ان کی واپسی کے لیے بھارت سے باضابطہ درخواست کی، لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔
آئندہ انتخابات میں عوامی لیگ کی شرکت کے حوالے سے سوال پر توحید حسین نے کہا کہ کسی بھی غیر ملکی سفارت کار نے دباؤ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انتخابات ایک ہفتے کے اندر ہوں گے اور نتیجہ عوامی رائے کی عکاسی کرے گا۔
بین الاقوامی معاہدے آئندہ حکومت کے لیے بوجھ نہیںتوحید حسین نے کہا کہ عبوری حکومت نے حالیہ بین الاقوامی معاہدوں کے سلسلے میں آئندہ حکومت کی ذمہ داری آسان بنائی ہے۔ انہوں نے امریکا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کا حوالہ دیا، جن میں کسٹمز کی شرح 37 فیصد سے 20 فیصد تک کم کی گئی۔ دفاعی تعاون کے معاملے میں جاپان کے ساتھ معاملات بھی عبوری حکومت نے آگے بڑھائے۔
یہ بھی پڑھیں:وائٹ پیپر جاری: حسینہ واجد دور میں ٹیلی کام بدانتظامی اور بدعنوانی بے نقاب
ویزا حاصل کرنے میں بنگلہ دیشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کے حوالے سے مشیر خارجہ نے کہا کہ یہ مکمل طور پر ملکی نظام کی ناکامی ہے۔ دستاویزات میں فراڈ کی وجہ سے بین الاقوامی اعتماد متاثر ہوا ہے اور اگر نظامی مسائل حل نہ کیے گئے تو مستقبل میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
توحید حیسن حسینہ واجد مشیر خارجہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: توحید حیسن حسینہ واجد توحید حسین نے کہا کہ حسینہ واجد بنگلہ دیش انہوں نے کے ساتھ
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :