بلوچستان: آپر یشن ’’رد الفتنہ ون‘‘ کامیابی سے مکمل، 216 دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی/نوشکی/ڈی آئی خان (خبرایجنسیاں +مانیٹرنگ ڈیسک ) ترجمان پاک فوج کے مطابق سیکورٹی فورسزنے بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ ون کامیابی سے مکمل کرلیا جس کے نتیجے میں 216 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آپریشن میںبھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے خلاف مربوط، تیز رفتار اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر متعدد کارروائیاں کی گئیں، سیکورٹی فورسز کے جرات مندانہ اور پْرعزم ردعمل نے فتنہ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا، اس کے تسلسل میں مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کے خاتمے کے لیے وسیع پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، کومبنگ اور کلیئرنس کارروائیاں کی گئیں۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ کلیئرنس آپریشنز کے نتیجے میںدہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت، کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم اور عملی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا۔آپریشن کے دوران غیر ملکی ساختہ اسلحہ، گولہ بارود، دھماکا خیز مواد اور دیگر آلات کا بڑا ذخیرہ بھی برآمد کیا گیا، ابتدائی معلومات سے دہشت گردوں کو منظم بیرونی معاونت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کیے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ان کارروائیوں کے دوران 36 معصوم شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل جو شہید ہوئے جب کہ سیکورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 22 بہادر جوانوں نے وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پوری قوم شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک سے بیرونی پشت پناہی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اولین ترجیح ہے، خوشی ہے کہ انٹیلی جنس پر مبنی مربوط کارروائیوں سے بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کی قیادت اور صلاحیت کی کمر توڑ دی گئی، قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف متحد ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے شہداء کی قربانی کبھی فراموش نہیں کر سکتی،دہشت گردی کی عفریت کے ملک سے مکمل خاتمے تک اس کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ علاوہ ازیں بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک بار پھر سیکورٹی چیلنجز نے سر اٹھا لیا ہے، نامعلوم مسلح افراد نے احمد وال ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال بردار ٹرین کو راکٹ سے نشانہ بنایا، جس سے ٹرین کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔پولیس اور ریلوے ذرائع کے مطابق یہ حملہ گزشتہ رات کے اوقات میں ہوا، جب ٹرین گزشتہ 5دنوں سے اسی اسٹیشن پر کھڑی تھی۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ راکٹ لگنے سے انجن مکمل طور پر غیر فعال ہو گیا ہے ۔ اسی علاقے میں گلنگور کے مقام پر بھی نامعلوم افراد نے دھماکا خیز مواد سے قومی شاہراہ (نیشنل ہائی وے) پر ایک اہم پل کو نشانہ بنایا،جس سے پل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق پل کا ایک حصہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹریفک متاثر ہوسکتی ہے۔یہ پل نوشکی اور دیگر اضلاع کو ملانے والا اہم راستہ ہے،اور اس کی تباہی سے آمدورفت میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔دوسری جانب ڈیرہ اسماعیل خان میں ایف سی ہیڈ کوارٹر کے گیٹ پر کواڈ کاپٹر سے 2 گولے فائر کیے گئے جس میں حوالدار امجد شہید ہوگئے جب کہ 2 جوان زخمی ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعہ تحصیل درازندہ میں ہیش آیا، زخمی جوانوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ کواڈ کاپٹر کی سمت کا اندازہ کرکے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔