سپر ٹیکس برقرار رہنے سے صنعتی شعبہ لیکویڈیٹی بحران کا شکار ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے فیڈرل آئینی عدالت کے فیصلے جس میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4B اور4C کے تحت سپرٹیکس کو جائز قرار دیا گیا ہے، کے بعد پیدا ہونے والے اثرات پر گہری تشویش کا اظہارکیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ کاروباری برادری عدلیہ اورقانون کی بالادستی کا احترام کرتی ہے، تاہم اس فیصلے سے صنعتی شعبے میں شدید لیکویڈیٹی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے جوصنعتی ترقی کوبری طرح متاثرکر سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین کے مطابق عدالت کی جانب سے زیادہ آمدن والے شعبوں پر 10 فیصد سپرٹیکس کی توثیق کے بعد ایف بی آر کی جانب سے فوری وصولی کے اقدامات کارپوریٹ سیکٹرپرٹیکس کے بوجھ کو ناقابلِ برداشت سطح تک لے جا رہے ہیں۔ 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس اور دیگرلیویزکے ساتھ مجموعی ٹیکس شرح بعض شعبوں میں 50 فیصد یا اس سے بھی زائد ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کا صنعتی شعبہ پہلے ہی حکومتی محصولات کا بڑا بوجھ اٹھا رہا ہے، اورسپرٹیکس برقرار رہنے کے فیصلے سے ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، فرٹیلائزراوربینکاری جیسے پیداواری وبرآمدی شعبے جوروزگاراورزرمبادلہ کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس فیصلے سے صنعتوں کی وہ بچت بھی ختم ہوجائے گی جوتوسیع، ماڈرنائزیشن اورسرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوتی ہے۔میاں زاہد حسین نے نشاندہی کی کہ ٹیکسٹائل اوربرآمدی شعبہ پہلے ہی مہنگی توانائی اورریفنڈزمیں تاخیرجیسے مسائل کا شکار ہے، ایسے میں ماضی سے لاگو سپر ٹیکس خام مال کی خریداری کے لیے دستیاب سرمایہ بھی ختم کردے گا جس سے برآمدات مزید کم ہوں گی۔ اسی طرح لارج اسکیل مینوفیکچرنگ (LSM) کوشدید دھچکا لگے گا اورغیرملکی ومقامی سرمایہ کاروں کوپالیسی کے عدم استحکام کا منفی پیغام جائے گا۔ فارماسیوٹیکل اورفرٹیلائزر جیسے ریگولیٹڈ شعبے قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہ ہونے کے باعث اضافی 10 فیصد ٹیکس کا بوجھ برداشت نہیں کرسکیں گے، جس سے ان کی بقاء خطرے میں پڑسکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پرزوردیا کہ سپرٹیکس کے عدالتی جواز کوانتہائی احتیاط سے استعمال کیا جائے اورموجودہ ٹیکس دہندگان پرمزید دباؤ ڈالنے کے بجائے ریٹیل، رئیل اسٹیٹ اورزرعی شعبوں کوٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔میاں زاہد حسین نے حکومت اورایف پی سی سی آئی کے درمیان فوری مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور تجویز دی کہ عدالتی فیصلے کے بعد ٹیکس پیئرز کوسپرٹیکس کی ادائیگی کے لیے کم ازکم دوسال میں اقساط کی سہولت دی جائے، 25 فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جائے اور قابل ادائیگی ٹیکس کو ریفنڈز میں ایڈجسٹ کیا جائے تاکہ کیش فلو کی قلت کے باعث صنعتی بندش اورڈیفالٹ سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔