گندم اور چاول کی تجارت اب شفاف ایکسچینج پلیٹ فارم پرآگئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے ایک اہم پیشرفت کے طور پر پاکستان مرکنٹائل ایکسچینج لمیٹڈ (پی ایم ای ایکس) نے پاکستان کی معروف زرعی اجناس کی ٹریڈنگ اور برآمد کرنے والی کمپنیوں میں سے ایک مسکے اینڈ فیمٹی ٹریڈنگ کمپنی کے ساتھ ایک اسٹرٹیجک معاہدہ کیا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار، زرعی اجناس جس کا آغاز گندم اور چاول سے ہو رہا ہے کی تجارت ایک باقاعدہ، دستاویزی اور شفاف ایکسچینج پلیٹ فارم پر کی جائے گی، جو قیمتوں کے معتبر تعین کو ممکن بنائے گا اور زرعی معیشت میں اوپن مارکیٹ کے آپریشنز میں معاون ثابت ہوگا۔ معاہدے پر دستخط کے بعد ایکسچینج کو توقع ہے کہ درج فہرست ایگری فیوچرز کنٹریکٹس کی تجارت رواں ماہ کے آخر میں شروع ہو جائے گی۔اہم زرعی تجارتی بہاؤ کو پی ایم ای ایکس کے پلیٹ فارم پر شامل کرنے سے توقع کی جاتی ہے کہ یہ اقدام ویلیو چین کے تمام حصوں میں وسیع فوائد فراہم کرے گا، جس سے کسان شفاف قیمتوں کے اشاروں تک رسائی حاصل کریں گے، جبکہ تاجروں اور برآمد کنندگان کو معیاری کاری اور مؤثر رسک مینجمنٹ سے فائدہ ہوگا۔ درآمد کنندگان، پروسیسرز اور سرمایہ کار قابل اعتماد قیمتوں کے معیار اور دستاویزی، باقاعدہ لین دین سے مستفید ہوں گے۔ یہ تعاون قابلِ فراہمی گندم اور چاول کے فیوچر کنٹریکٹس سے شروع ہوگا۔اہم زرعی تجارتی سرگرمیوں کو پی ایم ای ایکس کے پلیٹ فارم کے ساتھ منسلک کرنے سے توقع ہے کہ اس اقدام کے ثمرات پوری ویلیو چین (پیداواری و سپلائی کے سلسلے) تک پہنچیں گے۔ اس سے کسانوں کے لیے قیمتوں کے شفاف اشاروں تک رسائی ممکن ہو سکے گی جبکہ تاجر اور برآمد کنندگان کو معیار کی یکسانیت اور خطرات کے رسک مینجمنٹ سے فائدہ پہنچے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ درآمد کنندگان، پروسیسرز اور سرمایہ کاروں کو قیمتوں کے معتبر پیمانے اور دستاویزی و ریگولیٹڈ لین دین کی سہولت میسر آئے گی۔پی ایم ای ایکس پر ایک ایگری مارکیٹ میکر کی حیثیت سے، ’مسکے اینڈ فیمٹی ٹریڈنگ کمپنی‘ مسلسل دو طرفہ قیمتیں (خرید و فروخت کے ریٹس) فراہم کرے گی اور ایکسچینج پر زرعی اجناس کی بڑی مقدار لائے گی، جس سے مارکیٹ میں سرمائے کی روانی بڑھے گی، قیمتوں کے تعین میں بہتری آئے گی اور مارکیٹ کے شرکاء کے لیے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ میں کمی واقع ہوگی۔ مارکیٹ میکرز خرید اور فروخت دونوں اطراف میں فعال شرکت کے ذریعے فیوچرز ٹریڈنگ میں گہرائی اور تسلسل کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔2006 میں قائم ہونے والی مسکے اینڈ فیمٹی ٹرڈنگ کمپنی پاکستان کی معروف زرعی اجناس کی برآمد کنندگان میں سے ایک ہے جو گندم، مکئی اور تل کے ساتھ چاول پر بھی خاص توجہ رکھتی ہے۔ یہ کمپنی ملک کے دو سب سے بڑے ملرز میں شامل ہے اور سب سے بڑی فارم میکینائزیشن کمپنی بھی ہے، جو خریداری، پروسیسنگ، گودام داری اور برآمدات کا احاطہ کرتی ہے اور پاکستان بھر میں وسیع اسٹوریج اور لاجسٹکس انفراسٹرکچر رکھتی ہے۔دستخطی تقریب میں پی ایم ای ایکس اور مسکے اینڈ فیمٹی ٹرڈنگ کمپنی کی انتظامیہ نے کہا کہ یہ شراکت داری پاکستان کی زرعی اجناس کی مارکیٹ کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے مشترکہ مقصد کے مطابق ہے، جس کے تحت فزیکل زرعی سپلائی چینز کو ایکسچینج ٹریڈڈ مصنوعات سے فعال طور پر جوڑا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مسکے اینڈ فیمٹی پی ایم ای ایکس زرعی اجناس کی مد کنندگان پاکستان کی اور برا مد قیمتوں کے پلیٹ فارم کے ساتھ
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔