پاکستان کسی کی جاگیر نہیں، علیمہ خان کا بیان ملکی سالمیت کیخلاف ہے، خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے بیان کو پاکستان کی سالمیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں ، یہ نہ میری اور نہ ہی بانی پی ٹی آئی اور اس کے خاندان کے جاگیر ہے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے علیمہ خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان نے بیان دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اگر رہا نہیں ہوتے تو ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو مل کر صوبہ خیبرپختونخوا کو بند کردینا چاہئے، صوبہ بلوچستان میں دہشتگردی کا واقعہ ہو یا خیبرپی کے کے حالات، ہم مشکل اور چیلنجنگ حالات سے گزر رہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے فوجی جوان مادر وطن کے دفاع کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں، جیسے ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ان تمام چیلنجز سے بھی سرخرو ہوں گے۔خواجہ آصف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کے خاندان کاکردار تاریخ کے اس موڑ پر کھل کر سامنے آچکا ہے، بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت ملک اور صوبہ خیبرپی کے کو خدانخواستہ کمزور کرنا چاہتے ہیں۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اگر صوبہ خیبرپی کے وفاق کے ساتھ ورکنگ ریلشن شپ رکھنا چاہتا ہے تو اس جماعت کو یہ بھی قابل قبول نہیں ہے، اس جماعت کی تمام تر سیاست بانی پی ٹی آئی کی قید سے شروع ہو کر اسی پرہی ختم ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی کی جاگیر نہیں ہے، یہ نہ میری اور نہ ہی بانی پی ٹی آئی اور اس کے خاندان کے جاگیر ہے، پاکستان 25 کروڑ عوام کا ملک ہے اور اس عوام کے بھی اتنے ہی حقوق ہیں جتنے بانی پی ٹی آئی کے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو قانون کا سامنا کرنا چاہئے ، جو گرہیں انہوں نے ملک کیلئے باندھی تھیں آج وہ ہم دانتوں سے کھول رہے ہیں، اس جماعت کو پاکستان کے حقیقی مسائل اور شہدا کی لازوال قربانیوں پر بات کرنے کی کبھی توفیق نہیں ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی اور علیمہ خان
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔