اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) پاکستان اور ازبکستان نے مشترکہ اعلامیہ سمیت تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی،  زراعت و غذائی تحفظ، کان کنی، دفاعی تعاون، ماحولیاتی تبدیلی، کھیل و ثقافت، ادویہ سازی، انسداد منشیات اور دیگر شعبوں میں تعاون کے 29 معاہدوں  اور ایم او یوز  پر دستخط کئے ہیں۔ تجارت 2 ارب ڈالر تک بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔  اس سلسلے میں جمعرات کو یہاں ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کے دورے کے دوران خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف  نے شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے مابین مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے اور تبادلہ کیا جس کے بعد مفاہمت کی متعدد یادداشتوں اور معاہدوں پر دونوں ممالک کے متعلقہ وزراء  کے مابین دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔ دونوں ممالک کی  خارجہ امور کی وزارتوں کے مابین 2025-2028ء کیلئے تعاون کے معاہدے پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ازبکستان کے صدر کے مشیر برائے خارجہ امور، پری فیرنشل ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت گڈز لسٹ کی توسیع کے پروٹوکول پر وزیر تجارت جام کمال اور ازبکستان کے وزیر برائے سرمایہ کاری و تجارت، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کے معاہدے پر وزیر تجارت جام کمال، ازبکستان کی لائٹ انڈسٹری کی ترقی کیلئے قائم ادارے کے ڈائریکٹر، کان کنی و جیو سائنس کے شعبے میں تعاون کے لیے  پٹرولیم ڈویژن کی وزارت اور ازبکستان کی مائننگ و جیو سائنس کی صنعت کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار و ازبکستان کی کان کنی و جیالوجی کے وزیر، سزا یافتہ مجرموں کے تبادلے /حوالگی کے معاہدے پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری و ازبکستان کے صدر کے مشیر برائے خارجہ امور، منشیات کی روک تھام کیلئے تعاون کے معاہدے پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری و ازبکستان کے صدر کے مشیر، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبوں میں دونوں ممالک کی متعلقہ وزارتوں میں مفاہمت کی یادداشت پر وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ خواجہ و ازبکستان کے وزیر برائے سرمایہ کاری و تجارت، سائنسی تعلیم، کلچرل و آرکیٹیکچرل ہیریٹیج کے تحفظ و تحقیق و فروغ کیلئے معاہدے پر وزیر برائے قومی ثقافتی ورثہ اورنگزیب کھچی و ازبکستان کے وزیر ثقافت، ثقافت کے شعبے میں تعاون کیلئے دونوں ممالک کی متعلقہ وزارتوں میں تعاون کے معاہدے پر وفاقی وزیر اورنگزیب کھچی و ازبکستان کے وزیر ثقافت، پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کونسل، پی اے آر سی اور ازبکستان کی زراعت کی وزارت کے مابین ایم او یو پر وفاقی وزیر رانا تنویر اور ازبکستان کے وزیر زراعت، تازہ پھلوں کی درآمد کیلئے فائٹو کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پلانٹ پروٹیکشن کے شعبے میں پروٹوکول پر دونوں ممالک کے وزرائے زراعت، فوڈ سکیورٹی کیلئے تعاون کے معاہدے پر بھی دونوں ممالک کے زراعت و فوڈ سکیورٹی کے وزراء، کراچی، گوادر، پورٹ قاسم بندرگاہوں پر کارگو کنٹینرز کے حوالے سے میری ٹائم ٹریڈ اینڈ پیری فیرنشل پورٹ ارینجنمنٹس کیلئے ایم او یو پر وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری اور ازبکستان کے وزیر برائے سرمایہ کاری و تجارت، دفاعی تعاون کیلئے ایکشن پلان اور روڈ میپ پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور ازبکستان کے وزیر دفاع، این ڈی ایم اے اور ازبکستان کی قومی کمیٹی برائے اکالوجی و ماحولیاتی تبدیلی کے مابین اکالوجی و ماحولیاتی تبدیلی و ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں ایم او یو پر وزیر دفاع خواجہ آصف و ازبکستان کے وزیر دفاع، این ڈی ایم اے اور ازبکستان کی ہنگامی صورتحال کی وزارت کے مابین ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تعاون کیلئے ایم او یو پر بھی دونوں ممالک کے دفاع کے وزراء، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار میں سہولت کیلئے وزارت صنعت و پیداوار اور ازبکستان کی اکانومی و فنانس کی وزارت کے مابین ایم او یو پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ازبکستان کے سرمایہ کاری و تجارت کے وزیر، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور ازبکستان کے فارماسیوٹیکل مصنوعات کیلئے سٹیٹ انسٹی ٹیوشن سنٹر کے مابین فارماسیوٹیکل مصنوعات کے ریگولیٹری امور پر تعاون کیلئے ایم او یو پر وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور ازبکستان کے فارماسیوٹیکل انڈسٹری ڈویلپمنٹ کے ادارے کے ڈائریکٹر، فزیکل کلچر و سپورٹس کے شعبے میں تعاون کے لیے پاکستان سپورٹس بورڈ اور ازبکستان کی وزارت برائے ثقافت کے مابین ایم او یو پر وزیر برائے بین الصوبائی روابط رانا ثناء  اللہ اور ازبکستان کے وزیر سرمایہ کاری و تجارت کے مابین دستخط شدہ دستاویزات کا تبادلہ ہوا۔ اس کے علاوہ پاکستان اور ازبکستان کے مابین جن ایم او یوز اور معاہدوں کا اعلان ہوا ان میں یونیورسٹی آف پشاور اور تاشقند یونیورسٹی آف اوریئنٹل سٹڈیز کے مابین ایم او یو، انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد اور ازبکستان کے انسٹی ٹیوٹ برائے سٹرٹیجک اینڈ ریجنل سٹڈیز کے مابین ایم او یو، وزارت خارجہ کے تحت انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز اور ازبکستان انسٹی ٹیوٹ برائے سٹرٹیجک و ریجنل سٹڈیز کے مابین پاکستان ازبکستان ایکسپرٹ کونسل کے قیام کیلئے ایم او یو، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور ازبکستان کی انڈسٹریل، ریڈی ایشن و نیوکلیئر سیفٹی کمیٹی کے مابین ایم او یو، قومی احتساب بیورو اور ازبکستان کی اینٹی کرپشن ایجنسی کے مابین ایم او یو، پشاور اور ترمز شہروں کی انتظامیہ کے مابین شراکت داری تعلقات کے قیام کا معاہدہ، اسلام آباد اور سمرقند شہروں کی انتظامیہ کے مابین تعاون بڑھانے کیلئے ایم او یو اور پاکستان ازبکستان جوائنٹ بزنس کونسل کے قیام کیلئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اور ازبکستان کی صنعتوں کے مابین معاہدے بھی شامل ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اعلامیہ کے علاوہ 21 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں کا تبادلہ کیا گیا جبکہ آٹھ مزید ایم او یوز کا اعلان بھی کیا گیا۔ قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے ازبک صدر شوکت مرزائیوف کی ملاقات ہوئی۔ پی ایم آفس اعلامیہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ پاکستان ازبکستان کا باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے ایکشن پلان مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ دوطرفہ تجارت میں اضافے کا پروٹوکول معاشی تعاون کے لیے اہم سنگ میل ہے، پانچ سالہ پلان کے تحت تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔ علاقائی روابط کے فروغ کے حوالے سے مکمل تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔  آئی ٹی، زراعت، ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع سے استفادہ کریں گے۔  قریبی روابط کے ذریعے تعاون کو عملی شکل دیتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔  غزہ امن بورڈ غزہ میں امن کی بحالی اور  تعمیر نو کے لیے  اہم فورم ہے، پرامید ہیں کہ غزہ میں امن لوٹے گا اور مسئلہ حل ہوگا۔ کشمیر اور فلسطین کے مسائل کا حل دیر پا امن کے لیے ضروری ہے۔ جبکہ ازبکستان کے صدر  شوکت مرزائیوف نے کہاہے کہ پاکستان ازبکستان کا قریبی دوست اور بااعتماد شرکت دار ہے۔ تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں  تعلقات کو فروغ دینے پر بات چیت ہوئی ہے۔ عالمی اور علاقائی امور پر مل کر آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ مستقبل میں بھی قریبی روابط یقینی بنائیں گے۔ جمعرات کو یہاں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخطوں کی تقریب کے موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ازبکستان کے صدر اور ان کے وفد کو اسلام آباد میں اپنے دوسرے گھر آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان کے دورے پر بہت خوشی ہے، نہ صرف ازبکستان کے بہنوں اور بھائیوں بلکہ  ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے  شاندار کاوشوں پر نسٹ اسلام آباد کی طرف سے ازبکستان کے صدر کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری  اور پروفیسر شپ دی گئی ہے۔ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو فروغ دینے اور تجارتی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے اپ کی خدمات پر پاکستان کا اعلی ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان ملنے پر بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ نشان پاکستان کا اعزاز دونوں ممالک کے قریبی برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے مہمان صدر کے کردار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے  تعلقات وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوئے ہیں، ہم نے اعلیٰ سطحی تزویراتی تعاون کونسل کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کی ہے۔ علاقائی روابط کے فروغ کے حوالے سے مکمل تعاون کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ زراعت  فارماسیوٹیکل،  لیدر، لیدر شوز، سیاحت، آئی ٹی، ٹیکسٹائل  اور دیگر شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ ہم نے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون  بڑھانے کے لئے ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ دوطرفہ تجارت میں اضافے کا پروٹوکول انتہائی اہم سنگ میل ہے۔ یہ یقینی طور پر ایک گیم چینجر ہوگا۔ ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلئے  سہ ماہی بنیاد پر اجلاس ہوگا۔ پانچ سالہ پلان کے تحت تعاون کی نئی راہیں تلاش کی جائیں گی۔ قریبی روابط کے ذریعے تعاون کو عملی شکل دیتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ بابر پارک کے تحفے پر پاکستان کے عوام اور حکومت کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان بھی پاکستان کے ساتھ غزہ امن بورڈ کا رکن ہے۔ غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے یہ ایک اہم فورم ہے۔  پر امید ہیں کہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں غزہ میں پائیدار امن اور تعمیر نو کے لئے کامیاب ہوں گے اور دو ریاستی حل تک پہنچا جائے گا۔ ہم نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں امن اور ترقی کے لیے کام کریں گے۔ کشمیر اور فلسطین کے مسائل کا حل دیرپا امن کے لیے ضروری ہے۔ ازبکستان کے صدر نے خیر مقدمی کلمات پر کھڑے ہو کر وزیراعظم محمد شہباز شریف سے اظہار تشکر کیا۔ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے کہا کہ بھرپور استقبال اور شاندار میزبانی پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا مشکور ہوں، انسانی زندگی میں بعض دن انتہائی تاریخی ہوتے ہیں، آج کا دن میرے لیے بہت یادگار ہے۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور پروفیسرشپ ملنا میرے لیے اعزاز ہے۔ جس طرح سے میری اور میرے وفد کی شاندار میزبانی ہوئی اس کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ میں نے ہدایت کی ہے کہ  ازبکستان کی مائننگ یونیورسٹی  میں نسٹ کی چیئر قائم کی جائے۔ اعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ  اعزاز کے ساتھ ساتھ میرے لیے ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ازبکستان کی مائننگ یونیورسٹی میں نسٹ چیئر قائم کی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون سے منازل طے کریں گے۔ تعلیمی شعبے میں اساتذہ اور طلباء  کا بھی تبادلہ کیا جائے گا۔ پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز نشان پاکستان دئیے جانے پر شکر گزار ہوں، یہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دوستی اور قریبی برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے، نشان پاکستان کا اعزاز میرے لیے قابل فخر لمحہ ہے۔ تجارت، معیشت، سیکورٹی، دفاع، سرمایہ کاری سمیت تمام شعبوں میں روابط کو فروغ دینے پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ ،مشترکہ ورکنگ گروپ کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔ مذاکرات میں دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوئوں کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ تعمیری بات چیت کے نتیجے میں ہم نے تجارتی حجم میں اضافے کے پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں۔ پاکستان ہمارا قریبی دوست اور با اعتماد شراکت دار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں معاشی استحکام اور ترقی کے لیے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین سمیت مختلف معاملات پر ازبکستان اور پاکستان مل کر آگے بڑھیں گے، ہم متحد ہو کر آگے بڑھیں تو تمام مشکلات اور مسائل پر قابو پا سکتے ہیں۔ اپنے اجداد کے نام پر اسلام آباد میں بابر پارک کے قیام کی تجویز سے اتفاق کرنے پر شکر گزار ہوں، بابر پارک ہماری قریبی دوستی اور مضبوط برادرانہ تعلقات کا عکاس ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی اور علاقائی امور پر مل کر آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں، مستقبل میں بھی قریبی روابط یقینی بنائیں گے۔ پاکستان کے عوام کو رمضان المبارک کی پیشگی مبارک باد دیتا ہوں۔ قبل ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے دو طرفہ تجارت کا حجم اگلے پانچ سال میں دو ارب ڈالر تک بڑھانے کے پروٹوکول اور مختلف شعبوں میں  تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایکشن پلان مرتب کرنے کے لئے ورکنگ گروپ قائم کرنے کی دستاویز پر دستخط کیے۔ ریکٹر نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) نے ازبکستان کے صدر کو پی ایچ ڈی کی  اعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ دینے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے شوکت مرزائیوف کو اعزازی ڈگری اور پروفیسر شپ کا سرٹیفکیٹ  عطا کیا۔ قبل ازیں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے 6 رکنی دستے نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی سلامی پیش کی۔ مہمان نوازی اور بھائی چارے کے شاندار مظاہرے میں پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے معزز مہمان کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی فضائی حصار میں لیا اور فارمیشن لیڈر نے وزیراعظم اور پاکستان کے عوام کی جانب سے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا۔  ازبک مہمان کا نور خان ایئربیس پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ 21 توپوں کی سلامی دی گئی، ثقافتی ملبوسات میں ملبوس بچوں نے گلدستے پیش کیے۔ بچوں نے دونوں ملکوں کے پرچم تھام رکھے تھے۔ اس موقع پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی ہارون اختر خان بھی موجود تھے۔  ازبکستان کے صدر خصوصی طیارے سے باہر آئے تو صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان سے پرجوش مصافحہ و معانقہ کیا۔ وزیر اعظم سے ان کا خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ وزیر اعظم نے کابینہ ارکان سے معزز مہمان کا تعارف بھی کرایا۔ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کا وزیراعظم ہاؤس آمد پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معزز مہمان کا خیر مقدم کیا، دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور ان کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔ جمعرات کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر ازبکستان کے صدر کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، تقریب کے آغاز پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے، مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے ازبکستان کے صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا، شوکت مرزائیوف نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کے ارکان کو ازبکستان کے صدر سے متعارف کرایا جبکہ شوکت مرزائیوف نے اپنے وفد کے ارکان کا وزیراعظم محمد شہباز شریف سے تعارف کرایا۔ نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف سے جمعرات کو یہاں ملاقات کی جو پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد آئے ہوئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیرِ اعظم نے ازبکستان کے صدر کو صدرِ مملکت، وزیرِ اعظم اور پاکستان کے عوام کی جانب سے پرتپاک خیرسگالی کے پیغامات پہنچائے۔  دریں اثناء پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ازبکستان کے صدر شوکت مرزا ئیوف نے سینیئر وزراء کے ہمراہ پاکستان کے اہم دفاعی و صنعتی ادارے Global Industrial & Defence Solutions (GIDS) کا دورہ کیا۔ دونوں ممالک نے دفاع، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے صدر شوکت مرزائیوب اور ان کے وفد کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور ادارے کا مکمل دورہ کروایا۔ اس دوران صدر کو GIDS کے مختلف شعبوں سے متعلق بریفنگ دی گئی، جس میں جدید دفاعی حل، صنعتی صلاحیتیں اور تکنیکی ایجادات شامل تھیں۔ صدر اور ان کے وفد نے اہم سہولیات کا معائنہ کیا اور پاکستان میں مقامی دفاعی پیداوار اور صنعتی ترقی کے مختلف شعبوں کی ترقی دیکھنے کا موقع حاصل کیا۔ دورے نے پاکستان کی دفاعی صنعت میں بڑھتی ہوئی مہارت اور ٹیکنالوجی میں خود کفالت کو اجاگر کیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ دفاع، ٹیکنالوجی اور صنعتی شعبوں میں شراکت داری، علم کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا انتہائی اہم ہے۔ اس دورے نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مستحکم کرنے اور تعاون کے مختلف مواقع تلاش کرنے میں اہم قدم کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے اور مشترکہ سرمایہ کاری، تکنیکی اشتراک اور صنعتی منصوبوں کے مواقع تلاش کرنے کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں ممالک نے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور خطے میں تعاون کے نئے راستے کھولنے پر اتفاق کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان اور ازبکستان کے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون اور ازبکستان کے وزیر سرمایہ کاری و تجارت ازبکستان کے صدر کے شعبوں میں تعاون کو ازبکستان کے وزیر ازبکستان کے صدر کو تعاون کے معاہدے پر نے ازبکستان کے صدر کے مابین ایم او یو کے معاہدے پر وزیر پاکستان ازبکستان کے شعبے میں تعاون ڈگری اور پروفیسر شوکت مرزائیوف نے ایم او یو پر وزیر کے لیے پرعزم ہیں پاکستان کے عوام اور ازبکستان کی کیلئے ایم او یو انہوں نے کہا کہ اور پروفیسر شپ تعاون کو فروغ نشان پاکستان کو فروغ دینے تعاون کے لیے میں تعاون کے اعزازی ڈگری اور پاکستان قریبی روابط استقبال کیا تعاون کیلئے انسٹی ٹیوٹ ایکشن پلان پاکستان کا کے فروغ کے اور صنعتی مفاہمت کی وزیر دفاع جمعرات کو کا تبادلہ تعلقات کو اور ان کے روابط کے تعاون کی کے مختلف مہمان کا کی وزارت میرے لیے کے قیام دینے کے کریں گے کے ساتھ کیا اور جائے گا لیے ایک کر ا گے پر بھی پیش کی کے تحت

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ