پاکستان اور ازبکستان کے مابین 29 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور ازبکستان نے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مشترکہ اعلامیہ سمیت تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، غذائی تحفظ، کان کنی، دفاع، ماحولیاتی تبدیلی، کھیل، ثقافت، ادویہ سازی اور انسدادِ منشیات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے 29 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ پیش رفت جمعرات کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف کے سرکاری دورۂ پاکستان کے دوران ہوئی، جہاں اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی تقریب میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور صدر شوکت مرزائیوف نے شرکت کی۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے اور اس کا تبادلہ کیا، جس کے بعد مختلف معاہدوں اور ایم او یوز پر دونوں ممالک کے متعلقہ وزراء نے دستخط کیے۔
سعودی وزیر خارجہ کی ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو
تقریب کے دوران خارجہ امور کی وزارتوں کے درمیان 2025 سے 2028 تک تعاون کے فریم ورک معاہدے، پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ کے تحت اشیاء کی فہرست میں توسیع، ٹیکسٹائل و ملبوسات، کان کنی و جیو سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، ثقافت، آرکیٹیکچرل و ثقافتی ورثے کے تحفظ، زراعت، فوڈ سیکیورٹی اور پلانٹ پروٹیکشن کے شعبوں میں تعاون کے معاہدے طے پائے۔
دفاعی شعبے میں دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کے لیے ایکشن پلان اور روڈ میپ پر اتفاق کیا، جبکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ماحولیاتی تبدیلی اور اکالوجی کے شعبوں میں بھی تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ اس کے علاوہ سزا یافتہ مجرموں کے تبادلے، انسدادِ منشیات، میری ٹائم ٹریڈ، بندرگاہی سہولیات، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، فارماسیوٹیکل ریگولیٹری امور، کھیلوں اور فزیکل کلچر کے شعبوں میں تعاون کے لیے بھی مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ ہوا۔
بہت ہوگیا، مشعال یوسفزئی کےخلاف ایکشن لیں گے، بیرسٹر گوہر
تعلیمی، تحقیقی اور ادارہ جاتی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے لیے یونیورسٹی آف پشاور اور تاشقند یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز، انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد اور ازبک اداروں، پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی اور ازبک نیوکلیئر سیفٹی ادارے، قومی احتساب بیورو اور ازبک اینٹی کرپشن ایجنسی کے درمیان بھی ایم او یوز طے پائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پشاور اور ترمز، اسلام آباد اور سمرقند شہروں کے درمیان شراکت داری اور تعاون بڑھانے کے معاہدے بھی کیے گئے، جبکہ پاکستان ازبکستان جوائنٹ بزنس کونسل کے قیام پر بھی اتفاق ہوا۔
لاہور پولو کلب کے زیراہتمام ایکوسٹار 49 واں ایبک کپ کے انعقاد کی تیاریاں مکمل
حکام کے مطابق پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مشترکہ اعلامیہ کے علاوہ مجموعی طور پر 21 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا باضابطہ تبادلہ کیا گیا، جبکہ آٹھ مزید ایم او یوز کا اعلان بھی کیا گیا، جن کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان اور ازبکستان مفاہمتی یادداشتوں معاہدوں اور ازبکستان کے اسلام آباد کے درمیان تعاون کے کے لیے
پڑھیں:
محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
(اویس کیانی)نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد، جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اپ گریڈیشن پراجیکٹ سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیز
ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد،جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا pic.twitter.com/PSzCboerya
اجلاس میں ایلیٹ سکول کی فائرنگ رینج اور باونڈری وال کو 2 ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔
دوران اجلاس نیشنل پولیس اکیڈمی کو مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری دی گئی، تمام کلاس رومز کو جدید آئی ٹی سہولیات سے لیس کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔