بسنت کے موقع پر چاہت فتح علی خان کا نیا گانا، صارفین کیا کہتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سوشل میڈیا پر اپنے مختلف انداز میں گائے گئے گانوں کی وجہ سے شہرت پانے والے مشہور گلوکار چاہت فتح علی خان نے بسنت کے موقع پر نیا گانا ’بلا بن کے‘ ریلیز کردیا۔
چاہت فتح علی خان کے نئے گانے کے بول ’بوہے باریاں‘ ہیں جس کی ویڈیو انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی ہے جس پر صارفین مخلتف انداز میں تبصرے کیے۔
View this post on Instagram
A post shared by Chahat Fateh Ali Khan (@chahat_fateh_ali_khan)
ایک صارف کا کہنا تھا کہ حدیقہ کیانی یہ گانا سن کر رو رہی ہوں گی۔ میاں عثمان نامی صارف نے کہا کہ 25 سال بعد کسی گلوکار نے بسنت پر گانا گایا ہے۔
25 سال بعد کسی گلوکار نے بسنت پر گانا گاٻا????
— MIAN USMAN (@mianusmanmateen) February 5, 2026
محمد حسین نامی صارف نے حدیقہ کیانی کو مشورہ دیا کہ یہ گانا گانے کے بعد چاہت فتح علی خان پر ہتک عزت کا کیس کر دیں جبکہ ایک صارف نے کہا کہ اس نے قسم کھائی ہے کہ رنگ میں بھنگ ڈالنی ہے۔
حدیقہ کیانی پلیز اس بندے پرہتک عزت کا کیس کرو۔۔
— M.
کئی صارفین نے کہا کہ وہ اس گانے کے لیے تیار نہیں تھے اور اسے سزا قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بسنت بوہے باریاں چاہت فتح علی خان حدیقہ کیانی لاہور میں بسنت ویڈیو وائرل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چاہت فتح علی خان حدیقہ کیانی لاہور میں بسنت ویڈیو وائرل چاہت فتح علی خان حدیقہ کیانی
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔