پاکستان آرمی پاکستان اور پوری مسلم اُمہ کی محافظ ہے، ڈاکٹر پرویز اقبال لوہسر
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
چیئرمین یورپی یونین پاکستان فرینڈشپ فیڈریشن یورپ، ڈاکٹر پرویز اقبال لوہسر (تمغۂ خدمت) نے کہا ہے کہ پاکستان آرمی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم اُمہ کی محافظ ہے۔ انہوں نے یہ بات 5 فروری کو منڈی بہاؤالدین میں منعقدہ یومِ یکجہتی کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ڈاکٹر پرویز اقبال لوہسر نے کہا کہ سعودی عرب کے بعد متعدد مسلم ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدوں پر دستخط کرنے کے خواہاں ہیں، جو پاکستان کی عسکری صلاحیتوں پر عالمی اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی کی عالمی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں ڈنمارک کے صدر نے بیان دیا کہ اگر امریکا کی جانب سے گرین لینڈ پر حملہ کیا گیا تو ڈنمارک پاکستان آرمی سے مدد حاصل کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان آرمی نے بلوچستان سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادو کو گرفتار کیا، جو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈر تھا، جس سے پاکستان میں دہشتگردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے۔
ڈاکٹر لوہسر نے کہا کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب کسی ملک کی فوج کمزور ہو جاتی ہے تو وہ افغانستان، شام، عراق اور لیبیا جیسے حالات کا شکار ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان فوج کے کمزور ہونے کے بعد نیٹو نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا، جو ایک واضح مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پاکستان آرمی جیسی مضبوط اور منظم فوج ہی دشمن کے مذموم عزائم سے وطنِ عزیز کا دفاع کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن پاکستان آرمی اور عوام کے درمیان فاصلے پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں، تاہم چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کی قیادت میں فوج اور عوام کے درمیان رشتہ مزید مضبوط ہوا ہے۔
ڈاکٹر لوہسر کے مطابق 10 مئی 2025 کو پاکستان آرمی نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور بھارت کے آٹھ جنگی طیارے مار گرا کر اس کی عسکری جارحیت کو بے نقاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کشمیر ایک دن ضرور پاکستان کا حصہ بنے گا۔
سیمینار میں اوورسیز پاکستانیوں، معزز مہمانوں، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، چیمبر آف کامرس منڈی بہاؤالدین کے صدر اور عہدیداران، منڈی بہاؤالدین بار ایسوسی ایشن کے صدر، جنرل سیکرٹری اور اراکین، چیئرمین پنجاب وسائب ایسوسی ایشن بمعہ ٹیم، گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر اور اراکین، انجمنِ تاجران کے نمائندگان اور اوورسیز پاکستانی اور مقامی بزنس کمیونٹی بھی شامل تھی۔
سیمینار کے اختتام پر ڈاکٹر پرویز اقبال لوہسر نے شرکاء کے ہمراہ پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد اور چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر زندہ باد کے نعرے لگوائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پاکستان پاکستان آرمی کے صدر
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔