کوڈنگ کرنے والے نیا کیرئیر ڈھونڈ لیں‘، اے آئی انقلاب کے بعد وارننگ جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
ٹیک کمپنیوں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ملازمین کی نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں۔ کوڈنگ کے ماہرین کا خیال ہے کہ پروگرامرز کو نئے کیریئر کے مواقع تلاش کرنے شروع کر دینا چاہیے۔
Zoho کے شریک بانی سری دھر ویمبو کے مطابق اے آئی کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور حال ہی میں Anthropic کے Claude Opus 4.
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویمبو نے ایک صارف کی مثال دی، جس نے اے آئی کی مدد سے بھگوت گیتا کی ایپ صرف ایک ہفتے میں تیار کی، حالانکہ وہ خود کوڈنگ نہیں جانتا تھا۔ ویمبو نے اسے اے آئی-مدد یافتہ کوڈ انجینئرنگ پیداواریت کی واضح مثال قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ سب کے لیے بہتر ہے جو کوڈ لکھ کر اپنی زندگی گزارنے پر انحصار کرتے ہیں کہ وہ متبادل ذرائع معاش پر غور کریں۔ میں خود بھی اس میں شامل ہوں۔ یہ گھبراہٹ کی بات نہیں بلکہ قبولیت اور سکون کے ساتھ سوچنے کی بات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا
سری دھر ویمبو نے مستقبل کے حوالے سے دو ممکنہ منظرنامے بیان کیے ایک خوش آئند جہاں ٹیکنالوجی انسانی مہارت کو زیادہ ضروری نہیں رکھے گی اور انسان اپنی زندگی پر توجہ دے سکے گا اور دوسرا مایوس کن ڈسٹاپین منظر، جس میں ٹیکنالوجی پر مرکزی کنٹرول ہوگا۔
واضح رہے کہ کئی ٹیکنالوجی کے ماہرین نے تسلیم کیا ہے کہ دستی طور پر کوڈنگ کا دور ختم ہونے والا ہے اور اے آئی کی تیز ترقی سے اقتصادی اور پیشہ ورانہ ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی اے آئی نوکریاں ٹیک ماہرین کوڈنگ کمپنیاں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اے ا ئی اے ا ئی نوکریاں ٹیک ماہرین کوڈنگ کمپنیاں اے ا ئی کی
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔