پنجاب کی بلند ترین عمارت سی بی ڈی ون ٹاور” کے ڈیزائن کا تاریخی معاہدہ طے
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سٹی42: پنجاب کی بلند ترین عمارت ’’سی بی ڈی ون ٹاور‘‘ے ڈیزائن کا تاریخی معاہدہ لیک سٹی اور عالمی شہرت یافتہ فوسٹر پلس پارٹنرز کے درمیان طے پا گیا ہے، یہ پہلی مرتبہ ہے کہ فوسٹر پلس پارٹنرز پاکستان میں کسی منصوبے کا ڈیزائن کریں گے۔
سی بی ڈی ون ٹاور کے منصوبے میں لگژری ہوٹل، شاپنگ مال اور گریڈ اے آفس اسپیس شامل ہوگی، جس سے یہ منصوبہ شہر کے کاروباری اور تجارتی ماحول کو بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے لاہور عالمی معیار کے جدید کاروباری مراکز کی صف میں شامل ہو جائے گا اور پنجاب کی معاشی ترقی کو نئی رفتار ملے گی۔
بھارت: عام آدمی پارٹی کے رہنما لکی اوبرائے جالندھر میں فائرنگ سے ہلاک
تقریب میں لیک سٹی کے سی ای او سلطان گوہر اعجاز، فوسٹر پلس پارٹنرز کے اعلیٰ حکام اور سی او او سی بی ڈی پنجاب بریگیڈیئر منصور جنجوعہ نے شرکت کی۔ سی او او سی بی ڈی پنجاب نے کہا کہ سی بی ڈی ون ٹاور لاہور کی ترقی میں نیا سنگِ میل ثابت ہوگا اور یہ منصوبہ عالمی سرمایہ کاری کے فروغ کا اہم ذریعہ بنے گا۔
لیکس سٹی کے سی ای او سلطان گوہر اعجاز نے کہا کہ یہ میگا پراجیکٹ پنجاب کی معاشی ترقی کو نئی رفتار دے گا اور سی بی ڈی ون ٹاور اپنی مثال آپ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیک سٹی ڈویلپرز اس ٹاور کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق تعمیر کرے گا اور لاہور کے شہری منظرنامے کو ایک جدید شناخت دے گا۔
دنیا بھر میں فیس بک کی سروسز متاثر، صارفین پریشان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42 سی بی ڈی ون ٹاور پنجاب کی گا اور
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔