امریکا برطانیہ سمیت کئی ممالک کی اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اسرائیل اور ایران کے حوالے سے نئی سفری ہدایات اور ٹریول وارننگز جاری کر دی ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق صورتحال کے پیش نظر متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور ایران سے فوری روانگی کا مشورہ دیا ہے۔
امریکی سفارتخانے نے مقبوضہ بیت المقدس سے جاری کردہ سیکورٹی الرٹ میں امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ موجودہ علاقائی حالات کے باعث اپنے سفری منصوبوں پر ازسرِنو غور کریں اور ممکنہ رکاوٹوں اور خطرات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں۔
امریکی حکام کے مطابق سیکورٹی صورتحال میں اچانک تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں فضائی اور زمینی سفر متاثر ہو سکتا ہے۔
اُدھر برطانوی دفتر خارجہ نے بھی اسرائیل کے لیے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے برطانوی شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت دی ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی میں اضافے سے غیر متوقع حالات، سفری مشکلات اور سیکورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں بھارت، اٹلی، اسپین اور پولینڈ سمیت متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ آسٹریلیا نے بھی اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ موجودہ حالات کے پیش نظر ایران سے جلد از جلد روانہ ہو جائیں اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
سیکورٹی خدشات کے باعث برطانیہ نے تہران میں اپنا سفارتخانہ عارضی طور پر بند کر دیا ہے اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا گیا ہے۔
پاکستانی حکام کے مطابق ایران میں زیرِ تعلیم درجنوں پاکستانی طلبہ بھی احتیاطی طور پر وطن واپس آ چکے ہیں، جب کہ دیگر شہریوں کی صورتحال پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔
دریں اثنا فضائی سفر بھی اس صورتحال سے متاثر ہوا ہے۔ لوفتھانزا گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ موجودہ سیکورٹی حالات کے باعث اسرائیل کے لیے صرف دن کے اوقات میں پروازیں چلائے گا، جبکہ ایرانی اور عراقی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کیا جائے گا۔ بعض پروازوں کی منسوخی یا تاخیر کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکی اور برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ وہ خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، مقامی ہدایات پر عمل کرنے اور سفری الرٹس سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اپنے شہریوں کو ہے کہ وہ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔