آئی جی بنتے ہی عزم کیا کہ کچے سے ڈاکوؤں کا قبضہ ختم کرنا ہے: آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
---فائل فوٹوز
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ ہنی ٹریپ کے ذریعے لوگوں کو جھانسہ دےکر کچے کے علاقوں میں بلایا جاتا تھا اور اغواء کر لیا جاتا تھا، ہم نے عہد کیا کہ کچے کے علاقے میں ریاستی رٹ کو بحال کرنا ہے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تاوان کی رقم سے اسلحہ خریدا گیا، پولیس کی کوتاہی تھی کہ ڈاکو وہاں آباد ہوئے، یہ سلسلہ منظم جرائم بن گیا، ڈاکوؤں کے پاس پولیس سے بہتر اسلحہ تھا، پولیس نے اس کے باوجود بہت کوشش کی، آج ڈاکو مارے بھی جا رہے ہیں اور سرینڈر بھی کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے، کراچی میں جرائم کو کنٹرول کیا گیا، شہر میں نو گو ایریا تھا جس کو ختم کیا گیا، بدقسمتی سے چند سالوں میں کچے میں پولیس اور اسٹیٹ کی رٹ کمزور ہوئی، ماضی میں وہ وقت بھی آیا کہ 100 مغوی کچے میں موجود تھے، لالچ کی وجہ سےکچے میں اغواء برائے تاوان کے گھناؤنے کام نے مزید جڑیں پکڑیں، ڈاکوؤں نے جدید اور مہلک اسلحہ جمع کیا ہوا تھا۔
گزشتہ رات سے اسلام آباد میں ہوں، واپس جاکر دیکھوں گا: آئی جی سندھ جاوید عالم
انہوں نے مزید کہا کہ کچےکا علاقے ایک بڑا مسئلہ تھا، اغوا برائے تاوان کے کیسز بڑھ گئے تھے، سستی چیزیں کی لالچ دے کر یا خاتون کی آواز میں بات کر کے لوگوں کو بلوایا جاتا اور اغواء کر لیا جاتا، کے پی، بلوچستان اور پنجاب سے بھی لوگوں کو بلوا کر اغواء کیا جاتا تھا، سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے اسے استعمال کیا جاتا تھا۔
جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ آئی جی بننے کے بعد عزم کیا کہ کچے سے ڈاکوؤں کے قبضے کو ختم کرنا ہے، سندھ پولیس بہترین فورس ہے، وزیرِ اعلیٰ اور کابینہ کی سپورٹ حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جاوید عالم جاتا تھا کہ کچے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔