صدرِ زرداری کا خیبر پختونخوا میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے دوران 24 خوارج کا ہلاک ہونا ایک قابلِ قدر کامیابی ہے، جو سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عزم کا مظہر ہے۔
صدر زرداری نے کہا کہ بیرونی مداخلت کے باعث پھیلنے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور قوم کو اپنی سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر فخر ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ پوری قوت سے جاری رکھی جائے گی۔
صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے عفریت کے خلاف صفِ اوّل میں کھڑی ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف قومی عزم غیر متزلزل ہے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز خیبر پختونخوا صدر آصف علی زداری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز خیبر پختونخوا صدر ا صف علی زداری سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے کے خلاف
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔