صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے گئے کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیوں کے دوران 24 خوارج کا ہلاک ہونا ایک قابلِ قدر کامیابی ہے، جو سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عزم کا مظہر ہے۔

صدر زرداری نے کہا کہ بیرونی مداخلت کے باعث پھیلنے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور قوم کو اپنی سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر فخر ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ پوری قوت سے جاری رکھی جائے گی۔

صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے عفریت کے خلاف صفِ اوّل میں کھڑی ہیں اور پوری قوم ان کے شانہ بشانہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف قومی عزم غیر متزلزل ہے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز خیبر پختونخوا صدر آصف علی زداری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز خیبر پختونخوا صدر ا صف علی زداری سیکیورٹی فورسز دہشتگردی کے کے خلاف

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار