لاہور:علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے اطراف میں پتنگ بازی پر پابندی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
لاہور میں بسنت کے دوران فلائٹ آپریشنز کو محفوظ رکھنے کیلئے اہم حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے اطراف میں پتنگ بازی پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ طیاروں کے ٹیک آف اور لینڈنگ ایریازمیں پتنگ بازی پر پابندی کانوٹی فکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ پابندی پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی ایوی ایشن سیفٹی کے حوالے سے سفارشات کی روشنی میں لگائی گئی۔ لینڈنگ ایریا میں نادر آباد، گلشن علی کالونی اور علی ویو، نشاط کالونی، بھٹہ چوک اور ڈی ایچ اے بلاک پی، کیو، آر اور ایس شامل ہیں۔ ایئرکرافٹ ٹیک آف کے راستے میں الفیصل ٹان، جوڑے پل، تاجپورہ سے ملحقہ کینال بینک روڈ اور تاجپورہ کے علاقے شامل ہیں۔ یہ بھی پڑھیں:مذاکرات سے قبل ایران کا جدید خرمشہرـ4 بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ جہازوں کے ٹیک آف اور لینڈنگ کے تمام علاقوں میں بسنت کے دوران بھی پتنگ بازی پر پابندی عائد کی گئی۔ نوٹیفکیشن پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ کے تحت حکومتی منظوری کے بعد جاری کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پتنگ بازی پر پابندی
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔