WE News:
2026-07-24@11:38:45 GMT

کیا برسوں سے بے روزگار خواتین کو اپنا ہنر واپس ملے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

کیا برسوں سے بے روزگار خواتین کو اپنا ہنر واپس ملے گا؟

پنجاب حکومت کی جانب سے 2006 میں بسنت اور پتنگ بازی سے متعلق سرگرمیوں پر عائد کی گئی پابندی نے نہ صرف لاہور کے آسمانوں کو خاموش کیا بلکہ ایک بڑے گھریلو صنعت کے نظام کو بھی یکسر تباہ کر دیا۔

اُس وقت صرف ضلع لاہور میں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار جبکہ گوجرانوالہ اور قصور میں ایک لاکھ 80 ہزار کے قریب افراد پتنگ سازی سے وابستہ تھے۔

یہ ایک بڑی گھریلو صنعت تھی جس میں کام کرنے والوں کی اکثریت گھر بیٹھے روزگار کرنے والی خواتین پر مشتمل تھی۔ ہوم نیٹ کی ایک رپورٹ ے مطابق گھریلو سطح پر کام کرنے والے مزدوروں میں سے تقریباً 18 فیصد پتنگ ساز تھے، جن میں 90 فیصد سے زائد خواتین تھیں۔

اچانک اور بغیر کسی متبادل انتظام کے لگائی گئی پابندی نے ہزاروں خاندانوں کا واحد ذریعۂ آمدن ختم کر دیا۔ نتیجتاً خواتین کم آمدن والے کاموں جیسے دیہاڑی مزدوری، گھریلو ملازمت یا ریڑھی لگانے پر مجبور ہو گئیں، بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، خوراک میں کمی آئی اور کئی خاندانوں کو بچوں کو مشقت پر بھیجنا پڑا۔

خواتین کو بے روزگار کرنے کے ساتھ ساتھ  اس پابندی نے دیگر شعبوں جیسے بانس، دھاگا، گلو، کاغذ کی صنعتوں کو بھی متاثر کیا۔

المیہ یہ ہے کہ اصل خطرہ پتنگ نہیں، بلکہ شیشے سے لیپے ہوئے ڈور (ڈور) سے تھا، جسے ریگولیٹ کرنے کے بجائے پوری دستکاری کو جرم بنا دیا گیا۔ اس ناقص قانون سازی اور اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے نے آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت روزگار کے حق کی بھی خلاف ورزی کی اور ایک فن، ایک ہنر اور ہزاروں گھروں کے چولہے بجھا دیے۔

اس سال بسنت کی مشروط اجازت نے ان خواتین کے لئے روزگار کی نئی امید کی کرن جگا دی ہے۔

لاہور کے اندرون شہر سے تعلق رکھنے والی سابق پتنگ ساز شبنم بی بی کہتی ہیں کہ بسنت پر پابندی سے پہلے وہ گھر بیٹھے روزانہ 200 سے 300 پتنگیں تیار کر لیا کرتی تھیں، جس سے بچوں کی تعلیم اور گھر کا خرچ بآسانی چل جاتا تھا۔ انکا مزید کہنا ہے کہ ہم نے کبھی شیشے والی ڈور نہیں بنائی، ہمارا کام صرف کاغذ اور بانس کا ہوتا تھا۔

پابندی کے بعد ہمارا ہنر ایک دم بے قیمت ہو گیا۔ اب بسنت کی مشروط اجازت کی خبر نے برسوں بعد دل میں یہ امید جگائی ہے کہ شاید دوبارہ باعزت روزگار مل سکے، مگر ہمیں خوف ہے کہ کہیں یہ صرف چند دن کی بات نہ ہو۔

قصور کی رہائشی اور طویل عرصے تک پتنگ سازی سے وابستہ رہنے والی رخسانہ پروین کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد انہیں گھریلو ملازمت پر جانا پڑا، جہاں محنت زیادہ اور آمدن کم تھی۔ انکا مزید کہنا ہے کہ پتنگ سازی ہمارے لیے صرف روزگار نہیں تھی بلکہ ایک ہنر اور پہچان تھی۔

پابندی کے بعد ہم جیسی ہزاروں عورتیں نظر انداز ہو گئیں۔ اگر حکومت واقعی بسنت کو بحال کرنا چاہتی ہے تو ہمیں رجسٹر کر کے محفوظ پتنگ اور سادہ ڈور بنانے کی اجازت دے، تاکہ ہم عزت کے ساتھ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔

حمیرہ اسلم، نیشنل کوآرڈینیٹر پنجاب، ہوم نیٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ خوش آئند بات ہے کہ حکومت اب تہواروں اور ثقافتی سرگرمیوں کے احیاء کی بات کر رہی ہے، مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ 2 دہائیاں قبل بسنت اور پتنگ سازی پر عائد پابندی نے ہزاروں خاندانوں کا روزگار اچانک چھین لیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہوم نیٹ پاکستان نے اس مسئلے پر طویل عرصے تک کام کیا اور اپریل 2013 میں ایک تفصیلی سچویشن اینالیسز شائع کی، جس میں خاص طور پر خواتین پتنگ سازوں کی حالت زار کو دستاویزی شکل دی گئی۔

اس تحقیق کے مطابق پتنگ سازی سے وابستہ خواتین کی عمریں عموماً 18 سے 45 برس کے درمیان تھیں، جو اچانک پابندی کے بعد شدید بے روزگاری، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو گئیں۔

حمیرہ اسلم کے مطابق پاکستان میں ہوم بیسڈ ورکرز کی بڑی تعداد پہلے ہی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، ایسے میں بغیر کسی متبادل منصوبہ بندی کے پابندی نے ان خواتین کو سنگین معاشی اور سماجی مسائل میں دھکیل دیا۔

کئی خاندانوں کے لیے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ رہا، جبکہ بعض علاقوں میں یہ بھی سامنے آیا کہ شدید غربت کے باعث کچھ خواتین خطرناک اور غیر محفوظ راستوں پر جانے پر مجبور ہوئیں، جو نہایت دل خراش حقیقت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر حکومت بسنت یا اس جیسے تہواروں کو منانے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ان افراد، خصوصاً خواتین پتنگ سازوں کے لیے متبادل روزگار، اسکلز ٹریننگ، فنی تربیت اور مالی شمولیت کے منصوبے ناگزیر ہیں۔

ان کے مطابق ماضی میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری منصوبوں کے تحت خواتین کو سلائی، ہنر مندی اور مائیکرو فنانس سے جوڑ کر بہتر نتائج حاصل کیے گئے، اسی طرز پر قابلِ عمل اسکیمیں متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ یہ خواتین باعزت روزگار کے ذریعے اپنے بچوں اور خاندان کا مستقبل محفوظ بنا سکیں۔

پتنگ سازی سے متعلقہ خواتین کے مطابق بسنت کی بحالی محض ایک تہوار کی واپسی نہیں بلکہ ان ہزاروں گھریلو خواتین کے لیے معاشی بحالی کا موقع ہو سکتی ہے، جو برسوں سے اپنے ہنر کے زندہ ہونے کی منتظر ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

کامران ساقی

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پابندی کے بعد پتنگ سازی سے کہنا ہے کہ خواتین کو پابندی نے کے مطابق کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔

کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔

کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔

کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اغوا برائے تاوان کیس: پولیس نے منیب بٹ کو بے گناہ قرار دیا، ضمانت واپس لینے کی درخواست
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری