WE News:
2026-07-24@10:19:27 GMT

کیا برسوں سے بے روزگار خواتین کو اپنا ہنر واپس ملے گا؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

کیا برسوں سے بے روزگار خواتین کو اپنا ہنر واپس ملے گا؟

پنجاب حکومت کی جانب سے 2006 میں بسنت اور پتنگ بازی سے متعلق سرگرمیوں پر عائد کی گئی پابندی نے نہ صرف لاہور کے آسمانوں کو خاموش کیا بلکہ ایک بڑے گھریلو صنعت کے نظام کو بھی یکسر تباہ کر دیا۔

اُس وقت صرف ضلع لاہور میں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار جبکہ گوجرانوالہ اور قصور میں ایک لاکھ 80 ہزار کے قریب افراد پتنگ سازی سے وابستہ تھے۔

یہ ایک بڑی گھریلو صنعت تھی جس میں کام کرنے والوں کی اکثریت گھر بیٹھے روزگار کرنے والی خواتین پر مشتمل تھی۔ ہوم نیٹ کی ایک رپورٹ ے مطابق گھریلو سطح پر کام کرنے والے مزدوروں میں سے تقریباً 18 فیصد پتنگ ساز تھے، جن میں 90 فیصد سے زائد خواتین تھیں۔

اچانک اور بغیر کسی متبادل انتظام کے لگائی گئی پابندی نے ہزاروں خاندانوں کا واحد ذریعۂ آمدن ختم کر دیا۔ نتیجتاً خواتین کم آمدن والے کاموں جیسے دیہاڑی مزدوری، گھریلو ملازمت یا ریڑھی لگانے پر مجبور ہو گئیں، بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی، خوراک میں کمی آئی اور کئی خاندانوں کو بچوں کو مشقت پر بھیجنا پڑا۔

خواتین کو بے روزگار کرنے کے ساتھ ساتھ  اس پابندی نے دیگر شعبوں جیسے بانس، دھاگا، گلو، کاغذ کی صنعتوں کو بھی متاثر کیا۔

المیہ یہ ہے کہ اصل خطرہ پتنگ نہیں، بلکہ شیشے سے لیپے ہوئے ڈور (ڈور) سے تھا، جسے ریگولیٹ کرنے کے بجائے پوری دستکاری کو جرم بنا دیا گیا۔ اس ناقص قانون سازی اور اس پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے نے آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت روزگار کے حق کی بھی خلاف ورزی کی اور ایک فن، ایک ہنر اور ہزاروں گھروں کے چولہے بجھا دیے۔

اس سال بسنت کی مشروط اجازت نے ان خواتین کے لئے روزگار کی نئی امید کی کرن جگا دی ہے۔

لاہور کے اندرون شہر سے تعلق رکھنے والی سابق پتنگ ساز شبنم بی بی کہتی ہیں کہ بسنت پر پابندی سے پہلے وہ گھر بیٹھے روزانہ 200 سے 300 پتنگیں تیار کر لیا کرتی تھیں، جس سے بچوں کی تعلیم اور گھر کا خرچ بآسانی چل جاتا تھا۔ انکا مزید کہنا ہے کہ ہم نے کبھی شیشے والی ڈور نہیں بنائی، ہمارا کام صرف کاغذ اور بانس کا ہوتا تھا۔

پابندی کے بعد ہمارا ہنر ایک دم بے قیمت ہو گیا۔ اب بسنت کی مشروط اجازت کی خبر نے برسوں بعد دل میں یہ امید جگائی ہے کہ شاید دوبارہ باعزت روزگار مل سکے، مگر ہمیں خوف ہے کہ کہیں یہ صرف چند دن کی بات نہ ہو۔

قصور کی رہائشی اور طویل عرصے تک پتنگ سازی سے وابستہ رہنے والی رخسانہ پروین کا کہنا ہے کہ پابندی کے بعد انہیں گھریلو ملازمت پر جانا پڑا، جہاں محنت زیادہ اور آمدن کم تھی۔ انکا مزید کہنا ہے کہ پتنگ سازی ہمارے لیے صرف روزگار نہیں تھی بلکہ ایک ہنر اور پہچان تھی۔

پابندی کے بعد ہم جیسی ہزاروں عورتیں نظر انداز ہو گئیں۔ اگر حکومت واقعی بسنت کو بحال کرنا چاہتی ہے تو ہمیں رجسٹر کر کے محفوظ پتنگ اور سادہ ڈور بنانے کی اجازت دے، تاکہ ہم عزت کے ساتھ دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔

حمیرہ اسلم، نیشنل کوآرڈینیٹر پنجاب، ہوم نیٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ خوش آئند بات ہے کہ حکومت اب تہواروں اور ثقافتی سرگرمیوں کے احیاء کی بات کر رہی ہے، مگر یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ 2 دہائیاں قبل بسنت اور پتنگ سازی پر عائد پابندی نے ہزاروں خاندانوں کا روزگار اچانک چھین لیا۔

انہوں نے بتایا کہ ہوم نیٹ پاکستان نے اس مسئلے پر طویل عرصے تک کام کیا اور اپریل 2013 میں ایک تفصیلی سچویشن اینالیسز شائع کی، جس میں خاص طور پر خواتین پتنگ سازوں کی حالت زار کو دستاویزی شکل دی گئی۔

اس تحقیق کے مطابق پتنگ سازی سے وابستہ خواتین کی عمریں عموماً 18 سے 45 برس کے درمیان تھیں، جو اچانک پابندی کے بعد شدید بے روزگاری، ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہو گئیں۔

حمیرہ اسلم کے مطابق پاکستان میں ہوم بیسڈ ورکرز کی بڑی تعداد پہلے ہی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، ایسے میں بغیر کسی متبادل منصوبہ بندی کے پابندی نے ان خواتین کو سنگین معاشی اور سماجی مسائل میں دھکیل دیا۔

کئی خاندانوں کے لیے بچوں کی تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ رہا، جبکہ بعض علاقوں میں یہ بھی سامنے آیا کہ شدید غربت کے باعث کچھ خواتین خطرناک اور غیر محفوظ راستوں پر جانے پر مجبور ہوئیں، جو نہایت دل خراش حقیقت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر حکومت بسنت یا اس جیسے تہواروں کو منانے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ ان افراد، خصوصاً خواتین پتنگ سازوں کے لیے متبادل روزگار، اسکلز ٹریننگ، فنی تربیت اور مالی شمولیت کے منصوبے ناگزیر ہیں۔

ان کے مطابق ماضی میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری منصوبوں کے تحت خواتین کو سلائی، ہنر مندی اور مائیکرو فنانس سے جوڑ کر بہتر نتائج حاصل کیے گئے، اسی طرز پر قابلِ عمل اسکیمیں متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ یہ خواتین باعزت روزگار کے ذریعے اپنے بچوں اور خاندان کا مستقبل محفوظ بنا سکیں۔

پتنگ سازی سے متعلقہ خواتین کے مطابق بسنت کی بحالی محض ایک تہوار کی واپسی نہیں بلکہ ان ہزاروں گھریلو خواتین کے لیے معاشی بحالی کا موقع ہو سکتی ہے، جو برسوں سے اپنے ہنر کے زندہ ہونے کی منتظر ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

کامران ساقی

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پابندی کے بعد پتنگ سازی سے کہنا ہے کہ خواتین کو پابندی نے کے مطابق کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی مدت پوری ہونے کے بعد ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے 6 امیدوار سامنے آ گئے ہیں۔ عالمی ادارہ اس وقت بڑھتی ہوئی جنگوں، عالمی عدم استحکام اور شدید مالی بحران جیسے غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث نئے سربراہ کے انتخاب کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔

امیدواروں میں 4 خواتین اور 2 مرد شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ کسی ایک امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں، تاہم ارجنٹائن سے تعلق رکھنے والے رافیل گروسی کا نام سب سے زیادہ مضبوط امیدوار کے طور پر لیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اگلے سربراہ کے انتخاب کے لیے سلامتی کونسل کے 15 میں سے کم از کم 9 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، تاہم امیدوار کو 5 مستقل ارکان امریکا، برطانیہ، چین، فرانس اور روس میں سے کسی ایک کے ویٹو سے بھی بچنا ہوگا۔ سلامتی کونسل کی سفارش کے بعد ہی جنرل اسمبلی نئے سیکریٹری جنرل کی باضابطہ منظوری دے گی۔

مشیل باشیلے (چلی)

74 سالہ مشیل باشیلے چلی کی پہلی خاتون صدر رہ چکی ہیں۔ جنرل آگستو پنوشے کی فوجی حکومت کے دوران انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بعد ازاں وہ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق بھی رہیں، جہاں انسانی حقوق سے متعلق ان کے مؤقف، خصوصاً چین کے سنکیانگ میں ایغور مسلمانوں سے متعلق رپورٹ، پر بیجنگ نے سخت تنقید کی۔

باشیلے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے پاس بڑی طاقتوں کے دباؤ کے باوجود اخلاقی قیادت  ہونی چاہیے۔

انہیں میکسیکو اور برازیل کی حمایت حاصل ہے، تاہم چلی کی نئی حکومت نے ان کی حمایت واپس لے لی ہے، جبکہ امریکا بھی اسقاط حمل کے حق میں ان کے مؤقف پر تنقید کرتا رہا ہے۔

ماریا فرنانڈا ایسپینوسا (ایکواڈور)

61 سالہ ماریا فرنانڈا ایسپینوسا ایکواڈور کی سابق وزیر خارجہ اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سابق صدر رہ چکی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کا واحد عالمی پلیٹ فارم ہے، تاہم ادارے میں گہری اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔

 

انہوں نے مستقبل کے تنازعات کی پیشگی نشاندہی کے لیے ابتدائی انتباہی نظام (Early Warning System) قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

ان کی امیدواری کی حمایت اینٹیگوا اینڈ باربوڈا نے کی ہے، تاہم ان کے اپنے ملک ایکواڈور نے باضابطہ حمایت نہیں کی۔

رافیل گروسی (ارجنٹائن)

65 سالہ رافیل گروسی پیشہ ور سفارت کار ہیں اور 2019 سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔

انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام اور یوکرین کے زاپوریزیا جوہری پلانٹ سے متعلق عالمی سفارت کاری میں اہم کردار ادا کیا۔

گروسی نے سیکریٹری جنرل کی انتخابی مہم چلانے کے لیے اپنے موجودہ عہدے سے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنا ان کی ذمہ داریوں سے غفلت کے مترادف ہوگا۔

وہ اقوام متحدہ میں اصلاحات اور سیکریٹری جنرل کے زیادہ فعال کردار کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔

ربیکا گرینسپن (کوسٹا ریکا)

70 سالہ ربیکا گرینسپن کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر اور اقوام متحدہ کے ادارے UNCTAD کی سربراہ ہیں۔

انہوں نے سیکریٹری جنرل کی مہم کے لیے اپنی ذمہ داریوں سے عارضی رخصت لے رکھی ہے۔

2022 میں انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود اناج معاہدہ  کرانے میں اہم سفارتی کردار ادا کیا، جس کے ذریعے یوکرین سے اناج کی برآمدات بحال ہوئیں۔

گرینسپن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ ایک ضرورت سے زیادہ محتاط ادارہ بن چکا ہے، جس میں مؤثر فیصلوں کی رفتار بڑھانے کی ضرورت ہے۔

کیرولین روڈریگز برکیٹ (گیانا)

52 سالہ کیرولین روڈریگز برکیٹ گیانا کی سابق وزیر خارجہ اور اس وقت اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل مندوب ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو عالمی سطح پر اپنی ساکھ  دوبارہ بحال کرنا ہوگی۔

ان کے مطابق اقوام متحدہ کو صرف امن و سلامتی کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ادارہ ترقی، انسانی حقوق اور دیگر کئی شعبوں میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔

میکی سال (سینیگال)

64 سالہ میکی سال اس دوڑ میں شامل واحد امیدوار ہیں جو لاطینی امریکا سے تعلق نہیں رکھتے، حالانکہ روایتی طور پر اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا منصب لاطینی امریکا کو ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

سینیگال کے سابق صدر میکی سال امن اور ترقی کے باہمی تعلق پر زور دیتے ہیں۔

ان کی امیدواری سب سے پہلے برونڈی نے، جو اس وقت افریقی یونین کی سربراہی کر رہا ہے، پیش کی تھی، جبکہ سینیگال نے بھی حال ہی میں ان کی باضابطہ حمایت کا اعلان کیا ہے۔

تاہم سینیگال میں ان پر 2021 سے 2024 کے دوران حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت سے کچلنے کے الزامات بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انتخاب کا طریقۂ کار

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی تقرری 5 سال کے لیے ہوتی ہے۔ سلامتی کونسل امیدوار کے نام کی سفارش کرتی ہے، جس کے بعد 193 رکنی جنرل اسمبلی اس کی توثیق کرتی ہے۔ اگرچہ سلامتی کونسل میں 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی مستقل رکن کا ویٹو امیدوار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی، یوکرین اور غزہ کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور اقوام متحدہ کے مالی مسائل کے باعث اس مرتبہ سیکریٹری جنرل کا انتخاب گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ اور حساس تصور کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • ’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری