انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ صوبے میں مجموعی طور پر جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے، تاہم بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں کے دوران کچے کے علاقوں میں پولیس اور ریاستی رٹ کمزور ہوئی، جس کے نتیجے میں وہاں منظم جرائم نے جنم لیا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں نے اغوا برائے تاوان کو باقاعدہ کاروبار بنا لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہنی ٹریپ کے ذریعے لوگوں کو مختلف بہانوں سے وہاں بلایا جاتا، کبھی سستی اشیا کا لالچ دیا جاتا اور کبھی خاتون کی آواز میں بات کر کے لوگوں کو جھانسے میں لے کر اغوا کر لیا جاتا تھا۔

100 سے زائد مغوی ایک وقت میں کچے میں موجود رہے

آئی جی سندھ نے انکشاف کیا کہ ماضی میں ایک ایسا وقت بھی آیا جب 100 سے زائد مغوی ایک ہی وقت میں کچے کے علاقوں میں قید تھے۔ ان کے مطابق صرف سندھ ہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب سے بھی لوگوں کو اغوا کر کے کچے لایا جاتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تاوان کی بھاری رقوم سے ڈاکوؤں نے جدید اور مہلک اسلحہ خریدا، یہاں تک کہ بعض مواقع پر ان کے پاس موجود اسلحہ پولیس سے بھی بہتر تھا۔ سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے انہیں اپنے ٹھکانوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔

پولیس کی کوتاہی سے منظم جرائم نے جڑیں پکڑیں

جاوید عالم اوڈھو نے اعتراف کیا کہ پولیس کی تھوڑی سی کوتاہی کے باعث یہ جرائم ایک منظم شکل اختیار کر گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی تھی کہ ڈاکو کچے کے علاقوں میں آباد ہوئے اور اغوا برائے تاوان کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا، جس سے یہ علاقہ ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔

کراچی میں نو گو ایریاز کا خاتمہ

آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی میں جرائم کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا گیا اور وہ علاقے جو کبھی نو گو ایریاز کہلاتے تھے، آج وہاں پولیس کی رٹ قائم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس نے محدود وسائل کے باوجود بھرپور کوشش کی، جس کے نتیجے میں بہت سے ڈاکو مارے گئے اور اب متعدد ڈاکو سرینڈر بھی کر رہے ہیں۔

کچے میں ریاستی رٹ کی بحالی ہمارا عزم ہے

آئی جی سندھ نے کہا کہ آئی جی کا منصب سنبھالتے ہی انہوں نے عزم کیا تھا کہ کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کا قبضہ ختم کر کے ریاستی رٹ بحال کی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ جدوجہد جاری رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس ایک بہترین فورس ہے اور وزیراعلیٰ سندھ اور کابینہ کی مکمل حمایت حاصل ہے، جس کی بدولت صوبے میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کچے کے علاقوں میں انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس ریاستی رٹ

پڑھیں:

سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن


فائل فوٹو 

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔

سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔

کراچی آپریشن میں ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی، واٹر بورڈ کے ملازم تھے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔

خالد مقبول، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں،  ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ  کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن