لاپتہ نہیں، دہشتگرد تھے: بی وائے سی کی فہرستوں نے فتنہ الہندوستان کا اصل چہرہ دکھا دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائے سی) اور فتنہ الہندوستان کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق 31 جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے حملوں کو فورسز نے ناکام بنایا، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتا افراد کی فہرست میں شامل دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی اس دوران ہلاک ہوئے جبکہ لاپتا افراد کی فہرست میں شامل دہشگرد عبدالحمید اور راشد بھی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے گئے کئی دہشتگرد لاپتا افراد کی فہرست میں شامل تھے، 2025 میں قلات آپریشن میں ہلاک دہشتگرد صہیب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتا افراد کی فہرست میں تھا جبکہ مارچ 2024کو گوادر حملے میں ہلاک دہشتگرد کریم جان بلوچ بھی بی وائے سی کی لاپتا افراد فہرست میں شامل تھا۔ اس کے علاوہ نیول بیس حملے میں ہلاک دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ نام نہاد لاپتا افراد کا بیانیہ دہشتگردوں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کیلئے ہے، بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچ نوجوانوں کو جعلی بیانیہ بناکر اپنےجال میں پھنساتی ہے، نوجوانوں کو گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کربلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان کےحوالے کردیتی ہے، بی وائے سی قوم پرستی کی بنیاد پر ریاست مخالف جذبات ابھارکر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔خیال رہے کہ چند روز قبل سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کے متعدد حملے ناکام بناتے ہوئے 200 دہشتگردوں کو ہلاک کیا تھا جبکہ ان حملوں میں 22 سکیورٹی اہلکار اور 33 عام شہری بھی شہید ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: افراد کی فہرست میں بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان بی وائے سی
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔