Daily Mumtaz:
2026-07-24@11:23:13 GMT

فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب

راولپنڈی(نیوز ڈیسک) بلوچستان میں نام نہاد “لاپتہ افراد” کے بیانیے کے پیچھے دہشتگرد کارروائیوں کو منطقی جواز فراہم کرنے والا گٹھ جوڑ واضح ہو گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، 31 جنوری کو مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملے کو بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا، جس کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کی فہرست میں شامل دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی مارے گئے۔

ذرائع کے مطابق، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد “لاپتہ افراد” کی فہرست میں شامل دیگر دہشتگرد، جن میں عبدالحمید، راشد بلوچ، صہیب لانگو (2025 قلات آپریشن)، کریم جان (مارچ 2024 گوادر حملہ) اور عبدالودود (نیول بیس حملہ) شامل ہیں، پہلے بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ واضح شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ نوجوانوں کو دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال کرنے کی جواز فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کو “احساس محرومی” اور ریاست مخالف بیانیے میں الجھا کر فتنہ الہندوستان کے حوالے کر دیتی ہے۔ اس نیٹ ورک کے تحت نوجوانوں کی بھرتی سوشل میڈیا کے ذریعے کی جاتی ہے اور کم عمر بلوچ لڑکیاں بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملہ آور بنائی جاتی ہیں۔ اس گھناؤنے فعل سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان ایک مربوط دہشتگرد نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہے ہیں، جس میں غیر ملکی معاونت کے ناقابل تردید شواہد بھی موجود ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا نرم اور پرامن چہرہ صرف فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد کارروائیوں کو تحفظ دینے اور عوامی سطح پر اپنی ساکھ قائم کرنے کا فریب ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کے جذبات کو اشتعال دلا کر انہیں مسلح بغاوت اور دہشتگردی کے لیے استعمال کرتی ہے، جبکہ فتنہ الہندوستان نوجوانوں کو ہتھیار ڈالنے کے بعد مختلف کارروائیوں میں بھرتی کرتا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، بلوچ یکجہتی کمیٹی کو بھارتی “را” اور بعض بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ یہ گروہ بلوچ نوجوانوں اور مقامی افراد کو قوم پرستی کے جذبات کے ذریعے اپنی حمایت میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ حقیقت میں ان کی کارروائیوں کا مقصد بلوچستان میں انتشار اور دہشتگردی پھیلانا ہے۔

دہشتگردوں کی ہلاکت کے بعد، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے نام نہاد “لاپتہ افراد” کی فہرست کا پروپیگنڈا زمین بوس ہو چکا ہے، اور یہ گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس سے بلوچستان میں دیگر شدت پسند اور جرائم پیشہ عناصر پر بھی دباؤ بڑھے گا اور وہ جلد ریاست کے سامنے سرنڈر کرنے پر مجبور ہوں گے۔

یہ انکشاف بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بہترین حکمت عملی اور بروقت کارروائیوں کا ثبوت بھی ہے، جس سے نہ صرف دہشتگردی کا جڑواں نیٹ ورک کمزور ہوا بلکہ عوام کے تحفظ کے لیے ریاست کی موثر موجودگی کا پیغام بھی واضح ہو گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان بلوچستان میں لاپتہ افراد کے ذریعے کے مطابق نام نہاد گیا ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد ہلاک
  • آپریشن العزم: سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کامیاب کارروائی، 4 دہشتگرد جہنم واصل
  • آپریشن العزم ؛مستونگ کے علاقہ کھڈکوچہ میں کارروائی، فتنہ الہندوستان کے 4دہشتگرد ہلاک
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار