Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:42:03 GMT

فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب

راولپنڈی(نیوز ڈیسک) بلوچستان میں نام نہاد “لاپتہ افراد” کے بیانیے کے پیچھے دہشتگرد کارروائیوں کو منطقی جواز فراہم کرنے والا گٹھ جوڑ واضح ہو گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، 31 جنوری کو مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملے کو بروقت اور مؤثر کارروائیوں کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا، جس کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کی فہرست میں شامل دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی مارے گئے۔

ذرائع کے مطابق، بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد “لاپتہ افراد” کی فہرست میں شامل دیگر دہشتگرد، جن میں عبدالحمید، راشد بلوچ، صہیب لانگو (2025 قلات آپریشن)، کریم جان (مارچ 2024 گوادر حملہ) اور عبدالودود (نیول بیس حملہ) شامل ہیں، پہلے بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ واضح شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ نوجوانوں کو دہشتگرد کارروائیوں میں استعمال کرنے کی جواز فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کو “احساس محرومی” اور ریاست مخالف بیانیے میں الجھا کر فتنہ الہندوستان کے حوالے کر دیتی ہے۔ اس نیٹ ورک کے تحت نوجوانوں کی بھرتی سوشل میڈیا کے ذریعے کی جاتی ہے اور کم عمر بلوچ لڑکیاں بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملہ آور بنائی جاتی ہیں۔ اس گھناؤنے فعل سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان ایک مربوط دہشتگرد نیٹ ورک کے طور پر کام کر رہے ہیں، جس میں غیر ملکی معاونت کے ناقابل تردید شواہد بھی موجود ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کا نرم اور پرامن چہرہ صرف فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد کارروائیوں کو تحفظ دینے اور عوامی سطح پر اپنی ساکھ قائم کرنے کا فریب ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کے جذبات کو اشتعال دلا کر انہیں مسلح بغاوت اور دہشتگردی کے لیے استعمال کرتی ہے، جبکہ فتنہ الہندوستان نوجوانوں کو ہتھیار ڈالنے کے بعد مختلف کارروائیوں میں بھرتی کرتا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، بلوچ یکجہتی کمیٹی کو بھارتی “را” اور بعض بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ یہ گروہ بلوچ نوجوانوں اور مقامی افراد کو قوم پرستی کے جذبات کے ذریعے اپنی حمایت میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ حقیقت میں ان کی کارروائیوں کا مقصد بلوچستان میں انتشار اور دہشتگردی پھیلانا ہے۔

دہشتگردوں کی ہلاکت کے بعد، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے نام نہاد “لاپتہ افراد” کی فہرست کا پروپیگنڈا زمین بوس ہو چکا ہے، اور یہ گٹھ جوڑ بے نقاب ہو گیا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس سے بلوچستان میں دیگر شدت پسند اور جرائم پیشہ عناصر پر بھی دباؤ بڑھے گا اور وہ جلد ریاست کے سامنے سرنڈر کرنے پر مجبور ہوں گے۔

یہ انکشاف بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی بہترین حکمت عملی اور بروقت کارروائیوں کا ثبوت بھی ہے، جس سے نہ صرف دہشتگردی کا جڑواں نیٹ ورک کمزور ہوا بلکہ عوام کے تحفظ کے لیے ریاست کی موثر موجودگی کا پیغام بھی واضح ہو گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان بلوچستان میں لاپتہ افراد کے ذریعے کے مطابق نام نہاد گیا ہے

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع

سٹی 42:  کفایت شعاری اقدامات میں  نائب وزیر اعظم نے  مارکیٹوں کے اوقات کار بڑھا کر بڑا ریلیف دےدیا 

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابقنائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آج وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی

کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا ۔کمیٹی نے مارکیٹوں کے اوقاتِ کار، دن کے اوقات میں اضافے اور گرمیوں کے بلند درجۂ حرارت کو مدنظر رکھتے ہوئے کاروبار بند کرنے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ کیا۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریستوران، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز رات 11:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔

تاہم ٹیک اوے اور ڈیلیوری سروسز ان اوقات کار سے مستثنیٰ ہوں گی۔شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10:00 بجے تک کھلے رہیں گے۔ضروری خدمات بشمول فارمیسی، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات کو بھی مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات اور کیسز پر بھی غور کیا اور ان کی منظوری دی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات، اور آئی ٹی و ٹیلی کام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے خزانہ؛ نائب وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی بھی موجود تھے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم، اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشنز؛ نیز صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت