ٹی20 ورلڈکپ: پاکستان کا بھارت سے کھیلنے سے انکار، بھارتی کپتان کا موقف سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
آئی سی سی ٹی20ورلڈکپ میں پاکستان کے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کے بعد بھارتی ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے اپنا ردعمل پیش کر دیا ہے۔
حکومت پاکستان کے فیصلے کے تحت قومی ٹیم 15 فروری کو بھارت کے خلاف کھیلنے سے دستبردار ہو گی، اس کے جواب میں بھارتی سوریا کمار یادیو نے کہا کہ بھارتی ٹیم کولمبو ضرور پہنچے گی، اور پاکستان کی جانب سے کھیلنے سے انکار ہوا ہے، نہ کہ بھارتی ٹیم نے کوئی انکار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ: پاکستان بھارت میچ نہ ہونے سے بھارتی براڈکاسٹرز کو اربوں روپے کا مالی نقصان متوقع
ممبئی میں ٹیموں کے کپتانوں کے لیے منعقدہ میڈیا بریفنگ میں بھارتی کپتان نے بتایا کہ آئی سی سی نے میچوں کا شیڈول بنایا، جبکہ بی سی سی آئی اور بھارتی حکومت نے مشاورت کے بعد میچ نیوٹرل وینیو پر کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کولمبو کے لیے فلائٹ بک ہو چکی ہے اور ٹیم وہاں جا رہی ہے، آگے کیا ہوتا ہے وہ بعد میں دیکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ٹیم ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے تیار، پہلا معرکہ کل نیدرلینڈز کے خلاف
پاکستان کے خلاف میچ سے متعلق ٹیم کے شیڈول اور ماحول پر بات کرتے ہوئے سوریا کمار نے کہا کہ ٹیم کی پلاننگ بالکل واضح ہے، پہلے 7 فروری کو شیڈول کے مطابق میچ، پھر 12 فروری کو نمیبیا کے خلاف مقابلہ، اور اس کے بعد کولمبو روانگی ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال کا فیصلہ ان کے اختیار میں نہیں ہے، لیکن اگر 15 فروری کو کھیلنے کا کہا گیا تو بھارتی ٹیم یقینی طور پر میچ کھیلے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی سی سی بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ سوریا کمار یادیو کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ سوریا کمار یادیو کرکٹ بھارتی ٹیم سوریا کمار فروری کو کے خلاف کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔