WE News:
2026-06-02@23:54:25 GMT

عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انہیں دائیں آنکھ میں بینائی کی کمی کی شکایت تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے طبی معائنہ کی تفصیل اہل خانہ کو فراہم کر دی گئی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ

رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی رضامندی سے کیا گیا اور تجویز کردہ طریقہ علاج کامیاب رہا۔

میڈیکل رپورٹ ان کی فیملی کو اڈیالہ جیل حکام کے ذریعے فراہم کی گئی ہے۔

میڈیکل جانچ اور تشخیص

میڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہر امراضِ چشم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔

مزید پڑھیے: آنکھ میں انفیکشن، کیا عمران خان کو پمز اسپتال لایا گیا؟

رپورٹ کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ میں ’سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن‘ کی تشخیص ہوئی اور اسپتال میں فالو اپ علاج کی سفارش کی گئی۔

مزید پڑھیں: پمز میں عمران خان کا معائنہ کیسے ہوا؟ اسپتال انتظامیہ نے تفصیلات جاری کردیں

رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ علاج کے دوران تمام اقدامات بانی پی ٹی آئی کی رضامندی سے کیے گئے۔

آپریشن اور علاج کا عمل

بانی پی ٹی آئی کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق آپریشن تھیٹر میں علاج تقریباً 20 منٹ میں مکمل کیا گیا اور بعد از علاج وہ مستحکم تھے۔ علاج مکمل ہونے کے بعد انہیں معمول کی ہدایات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔

رپورٹ کی فیملی کو فراہمی اور حکومتی اقدامات

دریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے رپورٹ اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈینٹ کو بھیجی تھی جسے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پمز اسپتال عمران خان عمران خان کی میڈیکل رپورٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پمز اسپتال عمران خان کی میڈیکل رپورٹ عمران خان کی پمز اسپتال

پڑھیں:

قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • میرب علی سرجری کے بعد اسپتال منتقل، مداحوں سے صحت یابی کی دعاؤں کی اپیل
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے