عمران خان کی میڈیکل رپورٹ میں کیا انکشاف ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی میڈیکل رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ انہیں دائیں آنکھ میں بینائی کی کمی کی شکایت تھی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے طبی معائنہ کی تفصیل اہل خانہ کو فراہم کر دی گئی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ
رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا علاج ان کی رضامندی سے کیا گیا اور تجویز کردہ طریقہ علاج کامیاب رہا۔
میڈیکل رپورٹ ان کی فیملی کو اڈیالہ جیل حکام کے ذریعے فراہم کی گئی ہے۔
میڈیکل جانچ اور تشخیصمیڈیکل رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہر امراضِ چشم نے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔
مزید پڑھیے: آنکھ میں انفیکشن، کیا عمران خان کو پمز اسپتال لایا گیا؟
رپورٹ کے مطابق عمران خان کی دائیں آنکھ میں ’سینٹرل ریٹینل وین اوکلوژن‘ کی تشخیص ہوئی اور اسپتال میں فالو اپ علاج کی سفارش کی گئی۔
مزید پڑھیں: پمز میں عمران خان کا معائنہ کیسے ہوا؟ اسپتال انتظامیہ نے تفصیلات جاری کردیں
رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ علاج کے دوران تمام اقدامات بانی پی ٹی آئی کی رضامندی سے کیے گئے۔
آپریشن اور علاج کا عملبانی پی ٹی آئی کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق آپریشن تھیٹر میں علاج تقریباً 20 منٹ میں مکمل کیا گیا اور بعد از علاج وہ مستحکم تھے۔ علاج مکمل ہونے کے بعد انہیں معمول کی ہدایات کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔
رپورٹ کی فیملی کو فراہمی اور حکومتی اقداماتدریں اثنا وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے رپورٹ اڈیالہ جیل کے سپرنٹینڈینٹ کو بھیجی تھی جسے وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر بانی پی ٹی آئی کے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پمز اسپتال عمران خان عمران خان کی میڈیکل رپورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پمز اسپتال عمران خان کی میڈیکل رپورٹ عمران خان کی پمز اسپتال
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔