پاکستان میں جلد تھیلیسمیا اور سکل سیل انیمیا کا علاج صرف محفوظ انتقال خون تک محدود نہیں رہے گا کیوںکہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں جدید جینیاتی ٹیکنالوجی کرسپر کیس-9 پر تحقیق آخری مراحل میں ہے۔

تفصیلات کے مطابق اس تحقیق کے بعد خراب جینز کو درست کر کے خون کی ان موروثی بیماروں کے مریض کو نارمل زندگی دی جا سکتی ہے۔​

اس ٹیکنالوجی کے تحت ماہرین بچوں پر کلینیکل ٹرائلز شروع کرنے کے لیے تیار ہیں اور صرف ڈریپ کی اجازت کے منتظر ہیں۔ اس کے ساتھ اس علاج کو دوا کی طرح انجکشن کے ذریعے جسم میں منتقل کرنے پر بھی کام جاری ہے۔

اس جین ایڈیٹنگ تھراپی کے حوالے سے آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے سینٹر فار ری جنریٹو میڈیسن اینڈ اسٹیم سیل ریسرچ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر افسر علی میاں نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ کرسپر کیس-9 (CRISPR-Cas9) ایک ٹیکنالوجی ہے،جو مالیکیولر قینچی کی طرح کام کرتا ہے، جس کے ذریعے انسانی جینوم میں موجود جینیاتی ساخت (کریکٹر اسٹِک) کو ایڈٹ کیا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر افسر علی میاں کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی جین کے اندر موجود کیریکٹر اسٹیک کو ڈیلیٹ یا شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ جینیاتی اور پیدائشی امراض کے علاج کے لیے خراب جینز کو درست کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی پر پری کلینیکل سطح پر کام کیا جا چکا ہے اور اسے باقاعدہ طور پر ڈیولپ کیا گیا ہے۔

ااس علاج کی بنیادی طور پر دو اپروچز ہیں۔ پہلی اپروچ کو ایکس ویوو (Ex-vivo) کہا جاتا ہے، جس میں مریض کے خون سے اسٹیم سیلز کو الگ (آئیسولیٹ) کیا جاتا ہے۔ ان سیلز میں کرسپر کیس-9 کے ذریعے جین ایڈیٹنگ کی جاتی ہے، جس کے بعد انہیں دوبارہ مریض کے جسم میں انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریگولیٹری باڈی کی اجازت کے بعد اس طریقۂ علاج کے لیے بچوں پر کلینیکل ٹرائلز کی تیاری مکمل ہوجائے گی۔

دوسری اپروچ وہ ہے جس پر اس وقت آغا خان یونیورسٹی میں کام جاری ہے، جس کے تحت کرسپر کیس-9 کو بطور دوا (Drug) تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسے لائپوسوم یا ایکسوسوم کے ذریعے لوڈ کر کے ڈائریکٹ انجیکٹ ایبل بنانے پر کام ہو رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کووِڈ ویکسین تیار کی گئی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرسپر کیس 9 کے ذریعے کے لیے کیا جا

پڑھیں:

کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد

فائل فوٹو 

کراچی کے علاقے احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش ملی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت بظاہر طبعی لگتی ہے، مزید تحقیقات کر رہے ہیں، :لڑکی کی رات گئے طبعیت خراب ہوئی تھی، انسٹیٹیوٹ میں اسپتال بھی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان