کراچی؛ تھیلیسمیا کے علاج کیلئے جدید جینیاتی ٹیکنالوجی پر تحقیق آخری مراحل میں داخل
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پاکستان میں جلد تھیلیسمیا اور سکل سیل انیمیا کا علاج صرف محفوظ انتقال خون تک محدود نہیں رہے گا کیوںکہ آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں جدید جینیاتی ٹیکنالوجی کرسپر کیس-9 پر تحقیق آخری مراحل میں ہے۔
تفصیلات کے مطابق اس تحقیق کے بعد خراب جینز کو درست کر کے خون کی ان موروثی بیماروں کے مریض کو نارمل زندگی دی جا سکتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی کے تحت ماہرین بچوں پر کلینیکل ٹرائلز شروع کرنے کے لیے تیار ہیں اور صرف ڈریپ کی اجازت کے منتظر ہیں۔ اس کے ساتھ اس علاج کو دوا کی طرح انجکشن کے ذریعے جسم میں منتقل کرنے پر بھی کام جاری ہے۔
اس جین ایڈیٹنگ تھراپی کے حوالے سے آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے سینٹر فار ری جنریٹو میڈیسن اینڈ اسٹیم سیل ریسرچ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر افسر علی میاں نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ کرسپر کیس-9 (CRISPR-Cas9) ایک ٹیکنالوجی ہے،جو مالیکیولر قینچی کی طرح کام کرتا ہے، جس کے ذریعے انسانی جینوم میں موجود جینیاتی ساخت (کریکٹر اسٹِک) کو ایڈٹ کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر افسر علی میاں کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی جین کے اندر موجود کیریکٹر اسٹیک کو ڈیلیٹ یا شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ جینیاتی اور پیدائشی امراض کے علاج کے لیے خراب جینز کو درست کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی پر پری کلینیکل سطح پر کام کیا جا چکا ہے اور اسے باقاعدہ طور پر ڈیولپ کیا گیا ہے۔
ااس علاج کی بنیادی طور پر دو اپروچز ہیں۔ پہلی اپروچ کو ایکس ویوو (Ex-vivo) کہا جاتا ہے، جس میں مریض کے خون سے اسٹیم سیلز کو الگ (آئیسولیٹ) کیا جاتا ہے۔ ان سیلز میں کرسپر کیس-9 کے ذریعے جین ایڈیٹنگ کی جاتی ہے، جس کے بعد انہیں دوبارہ مریض کے جسم میں انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریگولیٹری باڈی کی اجازت کے بعد اس طریقۂ علاج کے لیے بچوں پر کلینیکل ٹرائلز کی تیاری مکمل ہوجائے گی۔
دوسری اپروچ وہ ہے جس پر اس وقت آغا خان یونیورسٹی میں کام جاری ہے، جس کے تحت کرسپر کیس-9 کو بطور دوا (Drug) تیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسے لائپوسوم یا ایکسوسوم کے ذریعے لوڈ کر کے ڈائریکٹ انجیکٹ ایبل بنانے پر کام ہو رہا ہے، بالکل اسی طرح جیسے کووِڈ ویکسین تیار کی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کرسپر کیس 9 کے ذریعے کے لیے کیا جا
پڑھیں:
پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سری لنکا نے پاکستانی شہریوں کیلئے اہم سہولت کا اعلان کرتے ہوئے ویزا فیس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
سری لنکا کے قونصل جنرل سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کیلئے ویزا فیس ختم کر دی، اور آن لائن ویزا درخواستوں پر عموماً 48 گھنٹوں کے اندر فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2026 کے دوران تقریباً 30 ہزار پاکستانی سیاحوں کی سری لنکا آمد متوقع ہے، جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 20 ہزار کے قریب تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ویزا فیس کے خاتمے کے بعد نہ صرف سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے بلکہ پاکستانی جوڑے بھی اپنی شادی کی تقریبات کیلئے سری لنکا کا رخ کر رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط مزید مضبوط ہو رہے ہیں
قونصل جنرل نے تعلیمی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 100 سری لنکن طلبہ کو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں اسکالرشپس فراہم کی ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعلقات کے فروغ کی ایک اہم مثال ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان 2005 میں آزاد تجارتی معاہدہ (فری ٹریڈ ایگریمنٹ) طے پایا تھا، تاہم اب بھی بعض تجارتی رکاوٹیں موجود ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دوطرفہ تجارت کے حجم میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
سنجیوا پٹیوالا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دفاعی تعلقات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویزا فیس کے خاتمے سے سیاحت، تجارت اور ثقافتی روابط کو نئی تقویت ملنے کا امکان ہے، جس سے دونوں دوست ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
مزید پڑھیں۔’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی