وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا بسنت پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
لاہور:
پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے اسلام آباد میں امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی وجہ سے بسنت کے حوالے سے تمام پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کردیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مریم نواز نے کہا کہ ‘سانحہ اسلام آباد کے پیش نظر میں بسنت کے حوالے سے کل شیڈول تمام سرگرمیاں منسوخ کر رہی ہوں’۔
انہوں نے کہا کہ ‘لبرٹی اسکوائر پر شیڈول میگا بسنت شو بھی منسوخ ہوگا’۔
مریم نواز نے کہا کہ ‘یہ ضروری ہے کہ قوم خوارج کے ناسور اور ان کے ہمدردوں کے خلاف متحد رہے اور ان کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتیں اور ملک کے دفاع میں اپنی مسلح افواج کے ساتھ شانے سے شانہ ملا کر کھڑے رہیں’۔
In the wake of the Islamabad tragedy, I am cancelling all my Basant-related activities that were scheduled for tomorrow.
P.S: It is imperative that the nation remains united against the Khwarji menace and their… — Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) February 6, 2026
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں 6 فروری سے 8 فروری تک بسنت منانے کا اعلان کرتے ہوئے 7 فروری کو لبرٹی چوک لاہور میں مرکزی پروگرام کا اعلان کیا تھا اور انہوں نے لاہور سمیت صوبے کے شہریوں کو شرکت کی دعوت دی تھی۔
لاہور میں گزشتہ رات کو ہی بسنت کا جشن شروع ہوگیا تھا اور شہریوں نے پتنگ اڑانے کا سلسلہ شروع کیا تھا جبکہ انتظامیہ کی جانب سے بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرنے کے دعوؤں کے باوجود ڈور پھرنے سے ایک شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کا اعلان
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔