Islam Times:
2026-07-23@23:31:15 GMT

ہٹ اینڈ ویو

اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT

ہٹ اینڈ ویو

اسلام ٹائمز: بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ حالات میں امریکہ کے لیے بہتر آپشن ”ہِٹ اینڈ ویو“ کی حکمتِ عملی ہے۔ یعنی محدود فضائی مہم کے ذریعے ایران کی مزاحمت، داخلی استحکام اور احتجاجی صلاحیت کو جانچنا، اور اگر نظام برقرار رہے تو دوبارہ پابندیوں کی طرف لوٹ جانا۔ اس تناظر میں مستقبل میں ایک اور امریکی فضائی کارروائی ممکن نظر آتی ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی

خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی نے ایران کے خلاف نئے فوجی آپریشن کے امکان پر سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکہ کے پاس اس وقت کارروائی کے لیے بظاہر اسٹریٹجک محرکات موجود ہیں جن میں ایران سے اس کی دیرینہ دشمنی، ایران کی اسرائیل کے ساتھ شدید کشیدگی، ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام میں پیش رفت اور ایران میں ایک مخصوص طبقے کی جانب سے ہونے والے مظاہروں کو اپنے غلط اندازوں کے تحت ایرانی نظام کی کمزوری سمجھا جانا۔ امریکا کسی بڑے زمینی حملے کے بجائے محدود فضائی حملوں، خصوصی آپریشنز اور اپنے اور اسرائیل کے جاسوسی نیٹ ورک کو زیادہ قابلِ عمل سمجھ سکتا ہے۔ تاہم یہ منظرنامہ شدید خطرات سے بھرپور ہے۔

ایران کی عسکری ساخت، اس کی جوابی صلاحیت، عام لوگوں کی اپنے حکومتی نظام کی حمایت، خطے میں تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات اور امریکی ساکھ کو پہنچنے والا ممکنہ نقصان، امریکہ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ صرف فضائی حملوں سے ایرانی نظام یا فوجی ڈھانچے کو فیصلہ کن نقصان پہنچانا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ بلکہ ایران پر کوئی بیرونی حملہ ایرانی حکومت کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ دوسرا راستہ مسلسل معاشی پابندیاں اور ناکہ بندی ہے۔ مگر ماضی میں یہ حکمتِ عملی شاذ و نادر ہی کسی حکومت کا نظام گرا سکی ہے۔ اس طرح کے اقدامات ایران کو جوہری بم بنانے کے مزید قریب لے جا سکتا ہے۔

بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ حالات میں امریکہ کے لیے بہتر آپشن ”ہِٹ اینڈ ویو“ کی حکمتِ عملی ہے۔ یعنی محدود فضائی مہم کے ذریعے ایران کی مزاحمت، داخلی استحکام اور احتجاجی صلاحیت کو جانچنا، اور اگر نظام برقرار رہے تو دوبارہ پابندیوں کی طرف لوٹ جانا۔ اس تناظر میں مستقبل میں ایک اور امریکی فضائی کارروائی ممکن نظر آتی ہے۔

ایران کے سامنے بھی دو راستے ہیں: ایک دباؤ اور ممکنہ حملے کو برداشت کرتے ہوئے محدود یا پھر لامحدود جوابی کارروائی، دوسرا امریکا سے مذاکرات، جو خود تہران کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ اس میں جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت سوالات ہوں گے، اگر یہ مزاکرات تازہ ترین اطلاعات کے مطابق محض جوہری معاملے تک محدود رہے، تب بھی۔ مجموعی طور پر فوجی آپریشن کا امکان بظاہر حقیقی نظر آتا ہے جو خطے کے ممالک  کے لیے سنگین ترین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امریکہ کے ایران کی سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی