اسلام ٹائمز: بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ حالات میں امریکہ کے لیے بہتر آپشن ”ہِٹ اینڈ ویو“ کی حکمتِ عملی ہے۔ یعنی محدود فضائی مہم کے ذریعے ایران کی مزاحمت، داخلی استحکام اور احتجاجی صلاحیت کو جانچنا، اور اگر نظام برقرار رہے تو دوبارہ پابندیوں کی طرف لوٹ جانا۔ اس تناظر میں مستقبل میں ایک اور امریکی فضائی کارروائی ممکن نظر آتی ہے۔ تحریر: پروفیسر سید تنویر حیدر نقوی
خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی نے ایران کے خلاف نئے فوجی آپریشن کے امکان پر سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکہ کے پاس اس وقت کارروائی کے لیے بظاہر اسٹریٹجک محرکات موجود ہیں جن میں ایران سے اس کی دیرینہ دشمنی، ایران کی اسرائیل کے ساتھ شدید کشیدگی، ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام میں پیش رفت اور ایران میں ایک مخصوص طبقے کی جانب سے ہونے والے مظاہروں کو اپنے غلط اندازوں کے تحت ایرانی نظام کی کمزوری سمجھا جانا۔ امریکا کسی بڑے زمینی حملے کے بجائے محدود فضائی حملوں، خصوصی آپریشنز اور اپنے اور اسرائیل کے جاسوسی نیٹ ورک کو زیادہ قابلِ عمل سمجھ سکتا ہے۔ تاہم یہ منظرنامہ شدید خطرات سے بھرپور ہے۔
ایران کی عسکری ساخت، اس کی جوابی صلاحیت، عام لوگوں کی اپنے حکومتی نظام کی حمایت، خطے میں تیل کی ترسیل کو لاحق خطرات اور امریکی ساکھ کو پہنچنے والا ممکنہ نقصان، امریکہ کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ صرف فضائی حملوں سے ایرانی نظام یا فوجی ڈھانچے کو فیصلہ کن نقصان پہنچانا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہے۔ بلکہ ایران پر کوئی بیرونی حملہ ایرانی حکومت کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ دوسرا راستہ مسلسل معاشی پابندیاں اور ناکہ بندی ہے۔ مگر ماضی میں یہ حکمتِ عملی شاذ و نادر ہی کسی حکومت کا نظام گرا سکی ہے۔ اس طرح کے اقدامات ایران کو جوہری بم بنانے کے مزید قریب لے جا سکتا ہے۔
بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق موجودہ حالات میں امریکہ کے لیے بہتر آپشن ”ہِٹ اینڈ ویو“ کی حکمتِ عملی ہے۔ یعنی محدود فضائی مہم کے ذریعے ایران کی مزاحمت، داخلی استحکام اور احتجاجی صلاحیت کو جانچنا، اور اگر نظام برقرار رہے تو دوبارہ پابندیوں کی طرف لوٹ جانا۔ اس تناظر میں مستقبل میں ایک اور امریکی فضائی کارروائی ممکن نظر آتی ہے۔
ایران کے سامنے بھی دو راستے ہیں: ایک دباؤ اور ممکنہ حملے کو برداشت کرتے ہوئے محدود یا پھر لامحدود جوابی کارروائی، دوسرا امریکا سے مذاکرات، جو خود تہران کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ اس میں جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت سوالات ہوں گے، اگر یہ مزاکرات تازہ ترین اطلاعات کے مطابق محض جوہری معاملے تک محدود رہے، تب بھی۔ مجموعی طور پر فوجی آپریشن کا امکان بظاہر حقیقی نظر آتا ہے جو خطے کے ممالک کے لیے سنگین ترین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکہ کے ایران کی سکتا ہے کے لیے
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔