اسلام آباد واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد واقعے میں ملوث دہشت گردوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا، دشمن پاکستان کے امن، یکجہتی اور ترقی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی دبئی سے واپسی کے بعد اسلام آباد میں ترلائی امام بارگاہ پہنچے، وزیر داخلہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دھماکے میں شہید ہونے والوں کے بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی، محسن نقوی، طلال چوہدری نے ملک میں امن، مذہبی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی بھی دعا کی۔
اعلامیے کے مطابق محسن نقوی نے خودکش دھماکے کی جگہ کا معائنہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا، امام بارگاہ کے منتظمین سے ملاقات کرکے دہشت گرد حملے کی مذمت کی، چیئرمین سی ڈی اے کو امام بارگاہ کی جلد مکمل بحالی اور آئی جی اسلام آباد کو واقعے کی مکمل تحقیقات کرنے کی ہدایت کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ معصوم نمازیوں اور مساجد پر حملے کرنے والے خارجی سفاک درندے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کو غیر ملکی پشت پناہی حاصل ہے۔
محسن نقوی نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ محسن نقوی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔