سعودی و مصری وزرائے خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کی امید کا اظہار کرتے ہوئے اختلافات کے سفارتی حل اور مشرق وسطی میں کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اسلام ٹائمز۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کر لیا جائے گا اور اس سے علاقائی امن و استحکام کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سلووینیا کے دارالحکومت لبلجانا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس نشست میں کہ جس میں غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو مستحکم کرنے کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا، سعودی وزیر خارجہ نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے لئے راستہ ہموار کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ریاض کو امید ہے کہ یہ مذاکرات مثبت نتائج کی جانب لے جائیں گے۔

یہ پریس کانفرنس سلووینیا کے وزیر خارجہ اور عرب اسلامی وزارتی کمیٹی کے اراکین کی موجودگی میں منعقد ہوئی؛ ایک ایسی کمیٹی کہ جو حالیہ مہینوں میں جنگ غزہ اور خطے کی صورتحال پر عرب و اسلامی ممالک کے موقف کو مربوط کرنے کے لئے تشکیل دی گئی ہے۔ اسی تناظر میں مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے بھی لُبلجانہ سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں ایرانی جوہری مسئلے کے گرد تناؤ پر خصوصی توجہ دی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قاہرہ، امریکہ اور یورپی یونین سمیت علاقائی و بین الاقوامی شراکتداروں کے ساتھ ملکر، اس بحران کو بڑھنے اور خطے کو ایک ہمہ گیر جنگ کی جانب جانے سے روکنے کے لئے مسلسل کام کر رہا ہے۔ بدر عبدالعاطی نے مزید کہا کہ اس خطے کو متعدد بحرانوں کا سامنا ہے جبکہ ایران کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنا اور مزید تنازعات کو روکنے کے لئے سفارتی حل کی جانب بڑھنا ہماری اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے لئے

پڑھیں:

امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ

بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی