اسلام آباددھماکہ، پیوٹن کے صدر، وزیرِاعظم پاکستان کو تعزیتی خطوط
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
اسلام آباد (طارق سمیر) روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اسلام آباددھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم شہباز شریف کو تعزیتی خطوط ارسال کیے ہیںروسی سفارتخانے کے مطابق اپنے خطوط میں صدرپیوٹن نے کہاکہ عبادت کے دوران لوگوں کا قتل کیا جانا دہشت گردی کی وحشیانہ اور غیر انسانی فطرت کا ایک اور ثبوت ہے،میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں اپنے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے روس کی آمادگی کا اعادہ کرتا ہوں۔روسی صدر نے لکھاکہ میری دلی ہمدردی اور حمایت اُن خاندانوں اور عزیزوں تک پہنچائیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا،انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمنائیں کااظہار کیا۔روسی صدر کا اسلام آباددھماکے پر صدراور وزیرِاعظم پاکستان کوتعزیتی خطوط عبادت میں لوگوں کا قتل دہشتگردی کی وحشیانہ اور غیر انسانی فطرت کا ایک اور ثبوت ہے،صدرپیوٹندہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ ہیں،پیوٹن
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔