اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, February 2026 GMT
پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ پر ہونے والے اندوہناک خودکش حملے کو وفاقی حکومت کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کے استعفوں اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کے مطابق یہ سانحہ نہ صرف سیکیورٹی نظام پر سوالیہ نشان ہے بلکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں حکومتی اداروں کی مسلسل غفلت کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
سانحے پر اظہارِ افسوس اور جانی نقصانپاکستان تحریک انصاف ترلائی امام بارگاہ اسلام آباد میں ہونے والے دہشتگرد حملے پر ایک بار پھر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ ابتدائی طور پر پارٹی نے شہدا کے اہل خانہ سے ہمدردی اور زخمیوں کے لیے دعاؤں کا اظہار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ میں دھماکا، 30 سے زیادہ افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
ذرائع ابلاغ اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق اس سفاکانہ حملے میں کم از کم 31 افراد شہید جبکہ 169 نمازی زخمی ہوئے، جو ایک بڑا قومی سانحہ ہے۔
سیکیورٹی ناکامی اور حکومتی ذمہ داریاسلام آباد جیسے حساس اور وفاقی دارالحکومت میں اس نوعیت کا دہشتگرد حملہ ہونا حکومتی سیکیورٹی ڈھانچے پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس سے قبل نومبر 2025 میں اسلام آباد کی سیشن کورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں بھی 12 افراد شہید ہوئے تھے، مگر افسوس کہ ان واقعات سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف کے مطابق اس سانحے کی براہِ راست ذمہ داری وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اور اسلام آباد پولیس پر عائد ہوتی ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے محرومی کے باوجود شہریوں کا تحفظ حکومتی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں مسلسل ناکامی ناقابل قبول ہے۔
سیاسی کریک ڈاؤن اور سیکیورٹی پر اثراتحالیہ دنوں میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی 8 فروری کی کال کے باعث حکومتی وسائل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ عوام کے تحفظ کے بجائے تحریک انصاف کے کارکنوں اور حامیوں کے خلاف گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن پر مرکوز رہی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد دھماکے کا جواب پوری قوت سے دیں گے، وزیر دفاع خواجہ آصف
پارٹی کے مطابق جب قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں کے بجائے پرامن سیاسی سرگرمیوں کو دبانے میں مصروف ہوں تو ایسے المناک سانحات جنم لیتے ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سانحے کے بعد پی ٹی آئی قیادت پمز اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے لیے موجود تھی، جبکہ اسی دوران اسلام آباد پولیس کی بھاری نفری نے پی ٹی آئی رہنما علی بخاری کے گھر پر چھاپہ مارا۔ ایسی کارروائیوں کی قیمت معصوم شہری اپنی جانوں کی صورت میں ادا کرتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف وزیراعظم سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر آئی جی اسلام آباد کو عہدے سے ہٹایا جائے اور وفاقی وزیر داخلہ سے استعفیٰ لیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس افسوسناک سانحے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کروائی جائیں تاکہ تمام ذمہ داران کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تحریک انصاف ترلائی دھماکا سانحہ اسلام آباد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تحریک انصاف ترلائی دھماکا سانحہ اسلام ا باد پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد کے مطابق
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔